پنکی کی کوریج سے پولیس پریشان، صحافیوں کو دھکے، خبر شائع کرنے پر دھمکیاں
اوپر سے منع کیا گیا ہے، پولیس افسران کا موقف، میں تم لوگوں کیخلاف کیس فائل کروں گی، لیڈی انسکپٹر
پنکی کیس میں عدالتوں میں مسلسل ناکامی اور منہ کی کھانے کے بعد پولیس کا غصہ صحافیوں پر نکل آیا۔ کراچی جوڈیشل کمپلیکس میں ملزمہ کی پیشی کے موقع پر پولیس اہلکاروں نے کوریج کے لیے آئے ہوئے میڈیا نمائندگان کو شدید زدوکوب کیا اور سنگین دھمکیاں دیں۔
انمول عرف پنکی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے نام پر پولیس نے صحافیوں کو دھکے دیے اور مغلظات کا استعمال کیا۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ “اوپر سے منع ہے، کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔” واضح رہے کہ فاضل عدالت کی جانب سے میڈیا کوریج پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔
میڈیا کو کوریج سے زبردستی روکنے کے دوران پولیس اہلکاروں نے صحافیوں کو کھلم کھلا دھمکیاں دیں اور کہا کہ اگر یہ خبر باہر گئی تو ہم تم لوگوں کو چھوڑیں گے نہیں۔ یہ تمہارا پریس کلب نہیں بلکہ ہماری جگہ ہے، ہم یہاں جو چاہیں گے کریں گے۔
موقع پر موجود لیڈی انسپکٹر ساجدہ نذیر نے بھی آپے سے باہر ہوتے ہوئے صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی اور کہا کہ “میں تم لوگوں کے خلاف کیس فائل کروں گی۔
صحافتی تنظیموں نے جوڈیشل کمپلیکس میں پولیس کے اس معاندانہ رویے، بدتمیزی اور میڈیا کی آزادی پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔