افغانستان میں پھنسے ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹرز کی واپسی کیلیے لنڈی کوتل میں احتجاج

عیدالاضحیٰ سے قبل فوری طور پر طورخم بارڈر کھول کر پاکستانی ڈرائیورز اور گاڑیوں کی واپسی یقینی بنائی جائے ، مظاہرین

May 18, 2026 · قومی
فوٹو امت

فوٹو امت

خیبر: طورخم بارڈر بندش سے لوگوں کا معاشی قتل ہو رہا ہے، بارڈر بندش سے لوگوں کے گھروں میں فاقے پڑ گئے، مظاہرین
افغانستان میں پھنسے پاکستانی ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹرز کی واپسی کیلئے لنڈی کوتل میں احتجاج بھرپور کیا گیا۔

طورخم بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرانسپورٹرز، ڈرائیورز اور گاڑیوں کی واپسی کے مطالبے پر لنڈی کوتل کے علاقے خیبر تکیہ پر پاک افغان شاہراہ پر احتجاج کیا گیا جہاں متاثرہ ٹرانسپورٹرز نے شدید تشویش اور پریشانی کا اظہار کیا۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ رہنماؤں رحمٰن زیب آفریدی، عظیم اللہ شینواری، بختیار خان اور دیگر نے کہا کہ گزشتہ آٹھ ماہ سے پاکستانی ڈرائیورز افغانستان میں بے یار و مددگار پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ ڈرائیورز کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ اہلِ خانہ سے طویل جدائی نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

فوٹو امت

فوٹو امتمظاہرین کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے ان کے مسائل کو انسانی بنیادوں پر فوری حل کیا جائے۔

احتجاجی دھرنے سے جماعت اسلامی کے رہنما اور سیاسی اتحاد کے صدر مراد حسین آفریدی اور اے این پی کے رہنما شاہ حسین شینواری نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے طورخم بارڈر کی بندش کو قبائلی عوام کا “معاشی قتلِ عام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ افغانستان میں پھنسی ہوئی گاڑیوں اور ڈرائیورز کا مسئلہ فوری طور پر حل کرے بصورتِ دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور احتجاج کا ہر جمہوری و قانونی حربہ استعمال کیا جائے گا۔

فوٹو امت
فوٹو امت

انہوں نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ عیدالاضحیٰ سے قبل فوری طور پر طورخم بارڈر کھول کر پاکستانی ڈرائیورز اور گاڑیوں کی واپسی یقینی بنائی جائے تاکہ یہ محنت کش اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ عید کی خوشیاں منا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا درست نہیں اور طورخم بارڈر تمام قبائل کے لئے واحد ذریعہ معاش ہے۔

دریں اثنا اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل نے بھی دھرنا کیمپ کا دورہ کیا اور مظاہرین سے ملاقات کے دوران صورتحال سے آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے احتجاجی شرکاء کے مسائل سنے اور متعلقہ حکام تک ان کے مطالبات پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔