پورے ملک میں بغاوت جیسی صورتحال ہے، مولانا فضل الرحمٰن

تمام فیصلے ’’ایک دماغ ‘‘ کر رہا ہے جو شریعت کے بھی منافی ہے، میٹ دی پریس سے خطاب

May 18, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے پورے ملک میں بغاوت جیسی صورتحال ہے، تمام فیصلے ’’ایک دماغ ‘‘ کر رہا ہے ۔ مقتدر حلقوں، انتخابی نظام اور حکومتی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت انتہائی گھمبیر صورتحال سے دوچار ہے۔

میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا  اور  کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اس وقت بغاوت جیسی صورتحال ہے، جہاں ریاست کے خلاف بندوق اٹھائی جا چکی ہے۔کوئی علیحدگی کی بات کر رہا ہے تو کوئی زبردستی شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے ۔ اندرون سندھ میں اس وقت ڈاکوئوں کا راج قائم ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہاکہ حکمران امن و امان اور معیشت پر سنجیدہ نہیں ہیں، بلکہ اسٹیبلشمنٹ سیاسی نظام پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی فکر میں ہے۔پارلیمنٹ اور حکومت پر وہ اثر انداز ہیں اور ایک ادارہ جب چاہے آئین کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے، آئین اور پارلیمنٹ کے لیے حکم ’’ایک محل‘‘ سے آتا ہے اور ملک طویل عرصے سے محلاتی سازشوں کا شکار ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے  2018ء اور 2024ء کے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں الیکشنز میں عوام کی مرضی کے خلاف حکومتیں بنائی گئیں، جبکہ عوام ووٹ کی طاقت سے فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔پورا ملک اور اس کے چاروں صوبے کثیرالقومیت پر مبنی ہیں، لیکن قوم کو کمزور اور تقسیم کرنے کی پالیسیاں چل رہی ہیں۔ عوام کو جبر پر اطاعت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، یہ کام تو فرعون نے کیا تھا۔ جب ایک دماغ سارے فیصلے کرتا ہے تو یہ اسلام کے بھی خلاف ہے، کیونکہ اسلام میں ’’شوریٰ‘‘ (مشاورت) کا حکم ہے۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف نے عالمی اور علاقائی تنازعات پر بات کرتے ہوئے  کہا کہ ایران اور امریکہ کی ممکنہ جنگ میں پاکستان کے پاس صرف ثالثی کا راستہ ہے، ہمارے لیے کسی کا فریق بننا انتہائی مشکل ہوگا،پاکستان اور افغانستان دو اہم پڑوسی ملک ہیں جن کے بیچ تحفظات موجود رہے ہیں۔ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف پشتون آباد ہیں، اس لیے ہم ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں،ہم افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں، اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں ابھی کوئی واضح تجویز سامنے نہیں آئی ہے، تاہم کچھ دوست اس پر ڈائیلاگ کر رہے ہیں، ہم اس نظام کے اندر رہ کر بات چیت کریں گے، نظام کو اکھاڑ پچھاڑ کرنے کی کوئی بات نہیں ہوگی۔

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ہم نے پی پی، مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین کو اس کی اصلی حالت میں بحال کیا تھا، جسے پارلیمنٹ نے منظور کیا، لہذا پارلیمنٹ کے فیصلوں کو حقیر نہ سمجھا جائے،ہم نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف تحریک چلائی، جنرل مشرف کے آمریت کو مسترد کیا اور ہمیشہ جمہوریت کے لیے جدوجہد کی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آخر میں سیاستدان ہی کمپرومائز (سمجوتہ) کر جاتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر جمہوریت ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور سرمایہ داریت  کھل کر سامنے آ رہی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ بھی ایسی ہی ہے، جس سے آنے والے وقت میں دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ آمریت اور عسکریت پسندی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام اب غلامی قبول نہیں کریں گے اور آئین کا تحفظ کرنا اب عوام ہی کا کام ہے۔