ثناءیوسف کیس، ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی گئی

ملزم کو 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا،عدالتی فیصلہ

May 19, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ثناء یوسف کیس میں ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی گئی ۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم کو 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق مقدمے کا ٹرائل مکمل ہونے پر آج ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے۔

عدالت کی جانب سے عمر حیات کو مجموعی طور پر 20 سال قید کی سزا کا حکم اور 24 لاکھ جرمانہ کیا گیا ہے جبکہ ملزم کو مقدمے کی دیگر 3 دفعات کے تحت 10، 10 سال کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

دورانِ سماعت عدالت میں ملزم عمر حیات کی کالز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس پیش کیے گئے۔

سماعت کے دوران ہی مدعی کے وکیل نے ملزم کو 2 بار سزائے موت دینے کی استدعا کی۔

ملزم کے وکیل نے عدالت میں اپنے دلائل میں کہا کہ ملزم عمر حیات نے اسٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، 2 درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التواء ہیں، پہلے سے سوچ کر رکھنا کہ ملزم کو سزائے موت دینا ہے، زیادتی ہو گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ثناء یوسف قتل کیس میں ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا تھا۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ثناء یوسف قتل کیس کی سماعت میں ملزم عمر حیات نے کہا تھا کہ اس نے ثناء کو قتل کرنے کا کوئی اعتراف یا کوئی انکشاف نہیں کیا، میرا ثناء یوسف سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔

اس پر جج نے استفسار کیا کہ دورانِ تفتیش ثناء یوسف کے فون سے کاکا کے نام سے ایک نمبر سامنے آیا تھا، موبائل فارنزک کے بعد نمبر آپ کا نکلا، اس پر کیا کہیں گے؟

اس پر ملزم عمر حیات نے کہا کہ میں اپنے وکیل کے بغیر کوئی جواب نہیں دے سکتا۔

کیس کا پس منظر

ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو 2 جون 2025ء کو اسلام آباد میں ان کے گھر میں قتل کیا گیا تھا، کیس کے ملزم عمر حیات کو 3 جون 2025ء کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

13 جون کو ملزم عمر حیات کی شناخت پریڈ ہوئی تھی، جڑانوالہ سے ملزم عمر حیات کا دوسرا موبائل فون برآمد ہوا تھا جبکہ 20 ستمبر کو ملزم عمر حیات پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

25 ستمبر کو پہلی گواہی ریکارڈ کی گئی تھی اور کیس میں مجموعی طور پر 31 گواہان شامل تھے جن میں سے 27 کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔