شام اورلبنان میں مساوات پر مبنی تعلقات کی طرف پیش رفت

دمشق اور بیروت خودمختاری اور تعاون کے نئے فریم ورک کی طرف بڑھ رہے ہیں

May 19, 2026 · بام دنیا

شامی صدر احمد الشرع کی ملاقات لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے دمشق میں، 9 مئی 2026

بیروت میں لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے 9 مئی کو دمشق کا دوسرا سرکاری دورہ کیا، جو 2024 میں الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد ان کا پہلا دورہ تھا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب لبنان اور شام دونوں اپنی سرزمین پر اسرائیلی حملوں اور قبضے کا سامنا کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک “نئے فریم ورک” کے تسلسل کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں دہائیوں پرانی شامی بالادستی سے ہٹ کر خودمختاری اور مساوات پر مبنی تعلقات کی طرف پیش رفت شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق دسمبر 2024 میں شامی اپوزیشن گروہوں نے حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر کارروائی کی جس کے بعد بشار الاسد ملک چھوڑ گئے اور ان کی پانچ دہائیوں پر مشتمل حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔

ماہرین کے مطابق الاسد حکومت کے خاتمے نے لبنان اور شام کے تعلقات کی نوعیت بدل دی، ماضی میں شام لبنان پر سیاسی اور سیکیورٹی اثر و رسوخ رکھتا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1976 میں شام نے لبنان میں مداخلت کی اور 2005 تک وہاں اپنا اثر برقرار رکھا، تاہم بعد ازاں یہ اثر کم ہوتا گیا۔

نئی شامی قیادت کے مطابق لبنان کے ساتھ تعلقات برابری کی بنیاد پر ہوں گے اور ترجیحات میں سرحدی کنٹرول، قیدیوں کا تبادلہ اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کا خاتمہ شامل ہے۔

لبنانی وزیراعظم کے مطابق دونوں ممالک نے قیدیوں اور لاپتہ افراد کے معاملے پر بھی بات چیت کی ہے اور تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

تاہم رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے معاملے اور اسرائیلی جارحیت جیسے اہم امور ابھی دونوں ممالک کے باضابطہ ایجنڈے کا حصہ نہیں بنے۔