6خلیجی ممالک کے ساتھ برطانیہ کا 3.7 ارب پاؤنڈ کا تجارتی معاہدہ
معاہدے کے مکمل نفاذ کے بعد برطانوی برآمدات پر عائد تقریباً 580 ملین پاؤنڈ سالانہ ٹیرف ختم ہو جائیں گے ، برطانوی حکومت
فائل فوٹو
لندن: برطانیہ نے خلیج کے چھ ممالک کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ طے کیا ہے جس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے ملکی معیشت کو 3.7 ارب پاؤنڈ کا فائدہ ہوگا۔
برطانوی حکومت کے مطابق بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ کیے گئے اس معاہدے کے مکمل نفاذ کے بعد برطانوی برآمدات پر عائد تقریباً 580 ملین پاؤنڈ سالانہ ٹیرف ختم ہو جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے برطانوی کمپنیوں کے لیے خلیجی منڈیوں میں کاروبار کرنا اور شراکت داری قائم کرنا آسان ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور موجودہ ملازمتوں کو بھی تحفظ ملے گا۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں انسانی حقوق اور کارکنوں کے تحفظ سے متعلق تفصیلات کا فقدان ہے۔
ادھر کنزرویٹو پارٹی، جس نے اپنی حکومت کے دوران اس معاہدے پر مذاکرات کا آغاز کیا تھا، کا کہنا ہے کہ یہ ’بریگزٹ کے بعد ایک اہم موقع‘ ہے، جسے لیبر پارٹی یورپی یونین کے ساتھ اپنے قریبی مؤقف کی وجہ سے ضائع کر سکتی ہے۔
اس معاہدے کے تحت چیڈر پنیر، مکھن اور چاکلیٹ سمیت بعض برطانوی مصنوعات پر درآمدی محصولات ختم کر دیے جائیں گے۔
برطانیہ اور خلیجی تعاون کونسل کے درمیان یہ معاہدہ وزیرِ اعظم کیئر سٹامر کی حکومت کا تیسرا بڑا تجارتی معاہدہ ہے، اس سے قبل انڈیا اور جنوبی کوریا کے ساتھ بھی معاہدے کیے جا چکے ہیں۔