اپوزیشن نے محمود اچکزئی، ناصر عباس کو مذاکرات کا مکمل اختیار دیدیا
محمود خان اچکزئی جو فیصلہ کریں گے وہ پارلیمانی پارٹی کو قبول ہوگا۔قرارداد
فائل فوٹو
اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مذاکرات کا مکمل اختیار دے دیا۔
اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت ہوا۔
ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے قائدین حزب اختلاف کو مذاکرات کا مکمل اختیار دینے کی قرارداد منظور کرلی۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی جو فیصلہ کریں گے وہ پارلیمانی پارٹی کو قبول ہوگا۔
اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ عوام کے اوپر اتنا بوجھ ڈالا جا رہا ہے کہ ملک نہیں چل پا رہا، مذاکرات کا مقصد ملک کو ٹریک پر لانا ہے، پاکستان میں آئین کی بالادستی ہونی چاہیے۔
نہوں نے کہا کہ ہمارے سیاسی قیدی سارے کے سارے بے گناہ ہیں، ان کو رہا کرنا چاہیے، کیا پاکستان میں آپ اختلاف رائے نہیں رکھ سکتے۔
راجا ناصر عباس نے کہا کہ ہمارے ہاں قرآن، دین، انیبا اور اولیا مقدس ہیں، لیڈران نہیں ہیں، یہاں تو آدمی بات بھی نہیں کر سکتا، اگر اس ملک کو چلانا ہے تو ضروری ہے کہ بات چیت ہو، یہ حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اپوزیشن چیمبر کے چمبر میں آجائیں، کیا ملک کو بحران سے نکالنا وزیراعظم کی ذمہ داری نہیں ہے؟ ہم ملک کے لیے مذاکرات چاہتے ہیں مگر عزت کے ساتھ ہونے چاہئیں۔