باپ، بھائی نے لڑکی کے قتل کا اعتراف کر لیا، ‘مقتولہ’ دونوں کو بچانے تھانے پہنچ گئی

پولیس کو 26 اپریل کو ایک نامعلوم خاتون کی جزوی طور پر جلی لاش ملی تھی۔ لاش بری طرح جھلس جانے کے باعث شناخت ممکن نہ تھی

May 30, 2026 · بام دنیا

 جلگاؤں: بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے ضلع جلگاؤں میں جزوی طور پر جلی ہوئی خاتون کی لاش ملنے کے کیس میں اس وقت غیر متوقع موڑ آ گیا جب جس خاتون کو مقتول سمجھا جا رہا تھا وہ خود زندہ پولیس اسٹیشن پہنچ گئی۔

پولیس کو 26 اپریل کو ایک نامعلوم خاتون کی جزوی طور پر جلی لاش ملی تھی۔ لاش بری طرح جھلس جانے کے باعث شناخت ممکن نہ تھی، تاہم تحقیقات کے دوران پولیس نے اسے لاپتہ نوجوان خاتون شیوانی کالمیکر قرار دے دیا۔

پولیس نے شبہے کی بنیاد پر شیوانی کے والد اور بھائی کو حراست میں لیا اور بعد ازاں دونوں کو قتل کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا۔

کیس نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب مئی کے آخری ہفتے میں شیوانی کالمیکر خود پولیس اسٹیشن پہنچ گئی اور بتایا کہ وہ زندہ ہے۔ خاتون نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ ان کے والد اور بھائی کو فوری رہا کیا جائے۔

اس واقعے کے بعد پولیس کی تفتیش پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، خاص طور پر اس بات پر کہ ڈی این اے رپورٹ آنے سے پہلے ہی اہلِ خانہ کے خلاف کارروائی کیوں کی گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے، اس کے دستاویزات اور نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

دوسری جانب اہلِ خانہ نے الزام لگایا ہے کہ زیرِ حراست والد اور بھائی پر دباؤ ڈالا گیا اور اعتراف جرم کروایا گیا۔

واقعے نے علاقے میں شدید بحث چھیڑ دی ہے اور پولیس کی کارروائی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اگر اس کی سرخی بھی چاہیے تو میں بنا دیتا ہوں۔