سب سے بڑے یورپی ایٹمی پلانٹ پر یوکرینی حملہ ۔آئی اے ای اے کا تشویش ناک بیان
کیف کے فوجی ترجمان نے ایسی کسی کارروائی کی تردید کر دی
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے روسی قبضے میں موجود جوہری پلانٹ پر یوکرائنی حملے کی تصدیق اور اظہار تشویش کیا ہے، آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ ایسی کارروائی کو آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔تاہم کیف نے حملے کی تردید کر دی۔
روس کی سرکاری نیوکلیئر انرجی کمپنی روزاٹام نے کہا تھا کہ یوکرینی ڈرون سب سے بڑے یورپی ایٹمی مرکز زاپوریزیا کے ٹربائن ہال کی دیوار میں سوراخ کر کے پھٹ گیا۔ روزاٹام کے سی ای او الیکسی لیخاچوف نے یوکرین پر دانستہ حملہ کرنے کا الزام لگایا۔
لیخاچوف نے کہاکہ ایک یوکرینی کامی کازی جنگی ڈرون نے پاور یونٹ نمبر 6 کے ٹربائن ہال کی عمارت پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا تاہم تنصیب کے مرکزی آلات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
یوکرین کی فوج نے کہا کہ اس نے پلانٹ کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ اس پر حملہ کیا، روسی دعوے کو ایک بار پھر پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے فوجی بیان میں کہا گیا کہ یوکرین بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی کرتا ہے اور نیوکلیئر تنصیبات کو نشانہ بنانے والے کسی بھی عمل کے نتائج سے آگاہ ہے۔
یوکرینی ڈرونز نے روس میں کئی توانائی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ اسی دوران روسی میڈیا میں زاپوریزیا پر حملے کی بھی اطلاعات آئیں۔
یوکرینی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا کہ محاذ کی متعلقہ لائن کے اس حصے میں واقعہ کے وقت کوئی شدید لڑائی نہیں ہو رہی تھی اور نہ کوئی ہتھیار استعمال کیا گیا۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی نے واقعے کے بعد شدید تشویش کا اظہار کیا۔
آ ئی اے ای اے کے مطابق اس کے انسپکٹرز نے ٹربائن عمارت کے بیرونی حصے میں نقصان دیکھا جو ڈرون کے حملے سے مطابقت رکھتا تھا۔ ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ ڈرون کہاں سے آیا، البتہ کہا کہ سائٹ پر تابکاری کی سطح نارمل رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا حملہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
ایجنسی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ سائٹ پر ٹیم نے عمارت کے کئی لیولز اوپر واقع ایک دھاتی دروازے کو نقصان پہنچا ہوا دیکھا، نیز زمین پر کچھ ملبے کے ٹکڑے اور جلے ہوئے آپٹیکل فائبر کے باقیات بھی دیکھے۔اس نے مزید کہا کہ انسپکٹرز نے ٹربائن ہال کے اندرونی حصے کا معائنہ کرنے کے لیے رسائی کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ روسی فورسز نے جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں اس پلانٹ پر قبضہ کر لیا تھا، اور یہ اب بھی جنوبی زاپوریزیا علاقے میں فرنٹ لائن کے قریب موجود ہے۔ زاپوریزیا روس کے ان چار علاقوں میں سے ایک ہے جنہیں روس نے باقاعدہ طور پر اپنے ساتھ ضم کر لیا ہے، اگرچہ اس پر مکمل فوجی کنٹرول نہیں اور نہ بین الاقوامی سطح پر اس کی کارروائیوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔