ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی۔ تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں
ایشیائی بازاروں میں تیزی، کوریا اور جاپان کے انڈیکس ریکارڈ سطح پر ہے
ایشیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹس نے نئے کاروباری ہفتے کا آغاز مثبت انداز میں کیا ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ ہفتے یہ 8 فیصد بڑھا تھا۔ اسی طرح جاپان کا نکی 225 انڈیکس بھی 0.5 فیصد بڑھ گیا، جو گزشتہ ہفتے تقریباً 5 فیصد اضافے کے بعد اپنی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا تھا۔
جے پی مورگن کے امریکی معاشی امور کے سربراہ مائیکل فیرو لی نے بتایا کہ اگر آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہو جائے تو عالمی معیشت کے لیے شدید خطرے کا مرحلہ ختم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ صورتحال بہتر ہو سکتی ہے، لیکن تیل کی قیمتیں کچھ وقت تک بلند رہنے کا امکان ہے کیونکہ ذخائر دوبارہ بھرنے اور مشرق وسطیٰ میں سپلائی انفراسٹرکچر کی بحالی میں وقت لگے گا۔
اس سے قبل رپورٹ کیا گیا تھا کہ ابتدائی ایشیائی ٹریڈنگ میں تیل کی قیمتیں 2 فیصد سے زائد بڑھ گئی ہیں، جبکہ برینٹ کروڈ فیوچرز 93 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلے گئے ہیں۔
سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جہاں اسرائیل نے لبنان میں اپنی کارروائیاں مزید بڑھا دی ہیں۔