غزہ میں سیٹلائٹ تصاویر سے بڑے پیمانے پر تباہی کا انکشاف،کئی علاقے نقشے سے مٹ گئے

رفح کے رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہوا دکھایا گیا ہے

June 1, 2026 · بام دنیا

 غزہ: تازہ سیٹلائٹ اور فضائی تصاویر میں جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی کے مناظر سامنے آئے ہیں، جن میں رہائشی علاقے، زرعی زمینیں، تعلیمی ادارے اور قبرستان شدید نقصان کی زد میں دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی غزہ کے شہروں رفح اور  خان یونس میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں متعدد علاقے اپنی اصل شکل کھو چکے ہیں اور کئی مقامات پر صرف ملبہ باقی رہ گیا ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ خان یونس کے علاقے معن میں واقع ایک قبرستان بھی شدید متاثر ہوا ہے، جبکہ مقامی افراد کے مطابق مسلسل لڑائی کے باعث علاقے کی جغرافیائی صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر میں رفح کے رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہوا دکھایا گیا ہے۔ متعدد محلوں میں رہائشی عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں جبکہ کئی مقامات پر مکمل تباہی کے آثار نمایاں ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ غزہ کے تعلیمی اداروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، متعدد اسکول اور تعلیمی مراکز متاثر ہونے کے باعث ہزاروں طلبہ کی تعلیم طویل عرصے سے متاثر ہے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق زرعی زمینوں کا بڑا حصہ بھی تباہ یا ناقابلِ استعمال ہو چکا ہے، جس کے باعث خوراک کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث انسانی بحران بڑھتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیاں سیکیورٹی اہداف اور مسلح گروہوں کے خلاف جاری آپریشنز کا حصہ ہیں، جبکہ فلسطینی حکام اور عالمی ادارے غزہ میں انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر نے غزہ میں جاری صورتحال کے اثرات کو ایک نئی اور واضح جہت سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، جبکہ فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔