عراقی ملیشیا کے ٹھکانوں پر امریکہ اور سعودی عرب کی بمباری

یہ کارروائی سعودی تیل تنصیبات پر حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔سعودی وزارت دفاع

واشنگٹن / ریاض / بغداد: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکا اور سعودی عرب نے عراق میں ایران سے منسلک مسلح گروہوں کے خلاف مشترکہ فضائی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب ایران سے وابستہ پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں اس کے متعدد اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔

سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق کارروائی امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے تعاون سے کی گئی اور اس کا مقصد عراق میں موجود ایران نواز گروہوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں کیا گیا۔

بیان کے مطابق ایران سے وابستہ گروہوں نے سعودی عرب کے توانائی کے اہم مراکز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے عراق سے آنے والے متعدد ڈرون ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکا اور سعودی عرب نے مشترکہ کارروائی کے دوران عراق میں ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ سینٹکام کے مطابق ان گروہوں پر امریکی افواج اور سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام تھا، جبکہ کارروائی کے نتیجے میں ان کے ممکنہ حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔

ادھر ایران سے منسلک پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) نے کہا ہے کہ امریکی اور سعودی فضائی حملوں میں عراق کے مختلف علاقوں میں موجود اس کے متعدد اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے جبکہ متعدد عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، تاہم حتمی اعداد و شمار ابھی جاری نہیں کیے گئے۔

پی ایم ایف نے اپنے بیان میں ان حملوں کو عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور سرکاری سیکیورٹی اداروں پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر اچانک میزائل حملے کی کوشش کی، تاہم تمام میزائل فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیے گئے اور کسی قسم کے بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) عراق کی سرکاری سیکیورٹی فورسز کے تحت قائم ایک اتحاد ہے، جس میں زیادہ تر شیعہ مسلح گروہ شامل ہیں۔ اس تنظیم نے داعش کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا، جبکہ اس کے بعض دھڑوں کے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ یہ گروہ خطے میں ایران کے حمایت یافتہ اتحاد، جسے “محورِ مزاحمت” کہا جاتا ہے، کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس اتحاد میں لبنان کی حزب اللہ، غزہ کی حماس اور یمن کے حوثی گروہ بھی شامل کیے جاتے ہیں۔

تاحال ایران یا عراقی حکومت کی جانب سے امریکی اور سعودی کارروائی پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور عالمی برادری خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔