پینٹاگون کے حساس ڈیٹا میں بڑا سائبر بریچ،30 لاکھ سے زائد افراد متاثر

متاثرہ معلومات میں سوشل سیکیورٹی نمبرز، نام، تاریخ پیدائش اور رابطے کی تفصیلات شامل تھیں۔ بعض افراد کے ریکارڈ میں فوجی ملازمت یا ذمہ داریوں سے متعلق معلومات بھی موجود تھیں

October 1, 2026 · بام دنیا
پینٹاگون کے حساس ڈیٹا میں بڑا سائبر بریچ،30 لاکھ سے زائد افراد متاثر

پینٹاگون کے حساس ڈیٹا میں بڑا سائبر بریچ،30 لاکھ سے زائد افراد متاثر

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے اہلکاروں سے متعلق ایک حساس ڈیٹا سسٹم میں سائبر سیکیورٹی بریچ کا انکشاف ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 30 لاکھ سے زائد افراد کی ذاتی معلومات غیر مجاز افراد تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیفنس مین پاور ڈیٹا سینٹر کے ایک انفارمیشن سسٹم تک غیر مجاز رسائی اکتوبر 2025 سے جولائی 2026 کے دوران جاری رہی۔ امریکی دفاعی حکام کے مطابق اس واقعے سے 27 لاکھ 60 ہزار زندہ افراد جبکہ 2 لاکھ 94 ہزار متوفی افراد سے متعلق ریکارڈ متاثر ہوئے، جس سے مجموعی متاثرہ ریکارڈز کی تعداد تقریباً 30 لاکھ 54 ہزار بنتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق متاثرہ معلومات میں سوشل سیکیورٹی نمبرز، نام، تاریخ پیدائش اور رابطے کی تفصیلات شامل تھیں۔ بعض افراد کے ریکارڈ میں فوجی ملازمت یا ذمہ داریوں سے متعلق معلومات بھی موجود تھیں، تاہم حکام کے مطابق ہر شخص کے ریکارڈ میں تمام معلومات شامل نہیں تھیں۔

ڈیفنس مین پاور ڈیٹا سینٹر امریکی محکمہ دفاع کا اہم ریکارڈ رکھنے والا ادارہ ہے، جہاں 6 کروڑ سے زائد فوجی و سویلین ملازمین، سابق فوجیوں، ریٹائرڈ اہلکاروں، کنٹریکٹرز اور فوجی خاندانوں سے متعلق معلومات موجود ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق غیر مجاز رسائی ایک فائل شیئرنگ سسٹم میں موجود سیکیورٹی کمزوری کے ذریعے ممکن ہوئی۔ یہ کمزوری 16 جولائی 2026 کو سامنے آنے کے بعد فوری طور پر دور کردی گئی۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ فائلوں میں موجود بعض حساس معلومات انکرپٹڈ نہیں تھیں، جس کے باعث اس سائبر واقعے نے امریکی قومی سلامتی اور انسدادِ جاسوسی کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کردی ہے۔

تاہم پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اب تک ایسی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ متاثرہ معلومات کو کسی غلط مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پینٹاگون میں حساس معلومات کے ممکنہ اخراج سے متعلق ایک الگ تحقیقات بھی جاری ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اگست میں جوائنٹ اسٹاف سے وابستہ تقریباً 50 فوجی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ کیے گئے۔ یہ کارروائی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر سے متعلق معلومات میڈیا تک پہنچنے کی رپورٹس کے بعد کی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اس الگ تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا جوائنٹ اسٹاف کے کسی اہلکار نے حساس یا خفیہ معلومات صحافیوں تک پہنچائیں۔ حکام کے مطابق یہ معاملہ موجودہ ڈیٹا بریچ سے مختلف ہے۔

امریکی حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ پینٹاگون کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والے افراد کون تھے، ان کا مقصد کیا تھا یا آیا متاثرہ معلومات کسی غیر ملکی حکومت یا جاسوسی ادارے تک منتقل کی گئیں۔

حکام کے مطابق سائبر حملے کے مکمل سیکیورٹی مضمرات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ متاثرہ افراد کے لیے پینٹاگون کی جانب سے ایک سال تک مفت کریڈٹ مانیٹرنگ اور شناخت کے تحفظ کی سہولت فراہم کیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔