دنیا کا امریکی ڈالر پر بھروسہ ختم، سونا سب سے بڑا محفوظ اثاثہ بن گیا،فنانشل ٹائمز
یہ تقریباً تین دہائیوں بعد پہلا موقع ہے کہ سونا عالمی مرکزی بینکوں کے ذخائر میں امریکی حکومتی بانڈز سے آگے نکل گیا ہے۔
لندن: عالمی مالیاتی نظام میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں 2025 کے اختتام تک دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے ذخائر میں سونے کا حصہ بڑھ کر 27 فیصد ہو گیا، جبکہ امریکی ٹریژری بانڈز کا حصہ 22 فیصد تک محدود رہ گیا ہے۔
دنیا کے معتبر ترین مالیاتی جرائد میں سے ایک فنانشل ٹائمز نے کہا ہے کہ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ تقریباً تین دہائیوں بعد پہلا موقع ہے کہ سونا عالمی مرکزی بینکوں کے ذخائر میں امریکی حکومتی بانڈز سے آگے نکل گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی بینکوں کی جانب سے مسلسل سونے کی خریداری اور گزشتہ دو برسوں کے دوران سونے کی قیمت میں نمایاں اضافے نے اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کئی ممالک اپنے ذخائر کو متنوع بنانے اور امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ڈالر سے منسلک اثاثے اب بھی مجموعی ذخائر کا تقریباً 42 فیصد حصہ رکھتے ہیں، تاہم سونے کی بڑھتی ہوئی مانگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جیو پولیٹیکل کشیدگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث مرکزی بینک محفوظ اور سیاسی طور پر غیر جانبدار اثاثوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سونا طویل عرصے سے محفوظ سرمایہ کاری اور بحران کے دوران پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مرکزی بینک اس کی خریداری میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔