مصنوعی ذہانت بنانے والے چور ہیں،ان سے وصولی کریں گے،امریکی سینیٹر کا اعلان

اے آئی کمپنیوں کے حصص پر ایک مرتبہ 50 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا، جس سے حاصل ہونے والے وسائل عوامی ملکیت کے ایک فنڈ میں منتقل کیے جائیں گے۔

June 3, 2026 · بام دنیا

واشنگٹن: امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ایک نیا بل متعارف کرائیں گے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے حاصل ہونے والی دولت میں عوام کو براہِ راست حصہ دینا ہے۔

برنی سینڈرز کے مطابق مجوزہ “اے آئی سوورین ویلتھ فنڈ ایکٹ” کے تحت بڑی اے آئی کمپنیوں کے حصص پر ایک مرتبہ 50 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا، جس سے حاصل ہونے والے وسائل عوامی ملکیت کے ایک فنڈ میں منتقل کیے جائیں گے۔

سینیٹر کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں یا ارب پتی شخصیات کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ عام شہریوں کو بھی اس ٹیکنالوجی کے فوائد اور فیصلوں میں حصہ ملنا چاہیے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اے آئی نظام انسانی علم اور اجتماعی ذہانت کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں، اس لیے ان سے پیدا ہونے والی دولت کا فائدہ بھی پورے معاشرے تک پہنچنا چاہیے، نہ کہ صرف چند سرمایہ کاروں اور بڑی ٹیک کمپنیوں تک محدود رہے۔

سینڈرز نے اس موقع پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے ساتھ روزگار، توانائی کے استعمال اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر ضوابط ضروری ہیں۔

دوسری جانب امریکا میں اے آئی انفراسٹرکچر اور ڈیٹا سینٹرز کے تیزی سے پھیلاؤ پر بھی بحث جاری ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق آنے والے برسوں میں ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث توانائی کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

برنی سینڈرز اس سے قبل بھی مصنوعی ذہانت سے متعلق سخت نگرانی اور حفاظتی اقدامات کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کی ترقی کے ساتھ عوامی مفاد، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔