کیا آموں کو کھانے سے پہلے پانی میں بھگونا ضروری ہے؟

چونسا، سندھڑی، لنگڑا اور انور رٹول سمیت مختلف اقسام کے آم شوق سے کھائے جاتے ہیں

June 3, 2026 · کائنات کے رنگ
کیا آموں کو کھانے سے پہلے پانی میں بھگونا ضروری ہے؟

کیا آموں کو کھانے سے پہلے پانی میں بھگونا ضروری ہے؟

گرمیوں کا موسم آتے ہی آم ایک بار پھر گھروں اور دسترخوانوں کی رونق بن جاتے ہیں۔ چونسا، سندھڑی، لنگڑا اور انور رٹول سمیت مختلف اقسام کے آم شوق سے کھائے جاتے ہیں، لیکن ایک سوال ہر سال زیرِ بحث آتا ہے کہ کیا آم کھانے سے پہلے انہیں پانی میں بھگونا واقعی فائدہ مند ہے؟

ماہرین غذائیت کے مطابق آم وٹامن اے، وٹامن سی، فائبر، پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے جو قوتِ مدافعت، بینائی اور مجموعی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آموں کو پانی میں بھگونے سے ان کی “گرمی” کم ہو جاتی ہے اور اس سے کیل مہاسوں، نکسیر یا ہاضمے کے مسائل سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی تائید کے لیے کوئی مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔

ماہرین کے مطابق آم کو پانی میں بھگونے کا سب سے بڑا فائدہ صفائی اور حفظانِ صحت سے متعلق ہے۔ باغات سے مارکیٹ اور پھر گھروں تک پہنچنے کے دوران آموں پر دھول، مٹی، جراثیم اور بعض اوقات کیڑے مار ادویات کے ذرات بھی جمع ہو سکتے ہیں، جنہیں پانی میں بھگونے یا اچھی طرح دھونے سے کافی حد تک صاف کیا جا سکتا ہے۔

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آم کے چھلکے پر موجود قدرتی لیٹیکس یا چپکنے والا مادہ بعض حساس افراد میں الرجی، گلے کی خراش یا کھانسی کا باعث بن سکتا ہے۔ آم کو پانی میں رکھنے سے یہ مادہ بھی دھل جاتا ہے، جس سے حساس افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین واضح کرتے ہیں کہ آم کو پانی میں بھگونے سے اس کی غذائی اہمیت متاثر نہیں ہوتی اور اس میں موجود وٹامنز، فائبر اور دیگر مفید اجزا برقرار رہتے ہیں۔

صحت کے ماہرین کا مشورہ ہے کہ آم کھانے سے پہلے اسے صاف پانی سے اچھی طرح دھو لینا کافی ہے، جبکہ اضافی صفائی کے لیے کچھ دیر پانی میں بھگونا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اسے کوئی لازمی طبی ضرورت یا صحت کا بنیادی اصول نہیں سمجھنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق آم اعتدال کے ساتھ کھانے، مناسب مقدار میں پانی پینے اور متوازن غذا اختیار کرنے سے اس مزیدار پھل کے فوائد بھرپور انداز میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔