راولاکوٹ میں 5 شہری، 4 پولیس اہلکار جاں بحق
کالعدم ایکشن کمیٹی کے 3 افراد اپنی ہی اندھا دھند فائرنگ سے مارے گئے، پولیس کا دعویٰ
راولاکوٹ میں اتوار اور پیر کی درمیانی مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم میں فائرنگ سے چار پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے جب کہ علاقے میں اب تک کے واقعات میں 4 شہری بھی جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
انسپکٹر جنرل پولیس آزاد جموں و کشمیر کے دفتر سے جاری میں اتوار کی شب کہا گیا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی سے مبینہ طور پر وابستہ مسلح عناصر کی فائرنگ کے نتیجے میں چار قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید جبکہ 20 سے زائد اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔
بیان کے مطابق واقعہ راولاکوٹ میں اس وقت پیش آیا جب ڈیوٹی پر موجود قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو مبینہ طور پر منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جبکہ شہید اور زخمی اہلکاروں کو گولیاں لگنے کے زخم آئے ہیں۔
آئی جی پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کسی پرامن احتجاج کا تسلسل نہیں بلکہ ایک منظم اور مسلح کارروائی ہے، جس کے دوران نہ صرف پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ایک طبی مرکز پر بھی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس سے مریضوں، طبی عملے اور شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا۔
آئی جی پولیس نے واضح کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ ناقابل برداشت ہے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی رٹ، عوامی امن اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور اس واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
پولیس حکام کے مطابق شہداء کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، جبکہ زخمی اہلکاروں کے علاج کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں
انسپیکٹر جنرل آف پولیس کشمیر کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’پرتشدد عناصر‘ کی فائرنگ کے نتیجے میں راولا کوٹ پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چار اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے تین افراد اپنی ہی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔‘
راولا کوٹ میں شاہ زیب نامی نوجوان کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہوئے تھے۔ راولا کوٹ پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد کے خلاف درج کی ہے. بی بی سی کے مطابق کمشنر راولا کوٹ سردار وحید خان نے 5 عام شہریوں کی اموات کی تصدیق کی ہے۔