شدید گرمی میں بوتل بند پانی کتنا محفوظ؟

پلاسٹک کی بوتلوں میں طویل عرصے تک محفوظ پانی انسانی صحت کے لیے بعض خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

June 9, 2026 · کائنات کے رنگ

اسلام آباد: گرمی کی شدت میں اضافے اور ہیٹ ویو کے دوران لاکھوں افراد پیاس بجھانے کے لیے بوتل بند پانی کا استعمال کرتے ہیں، تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ پلاسٹک کی بوتلوں میں طویل عرصے تک محفوظ پانی انسانی صحت کے لیے بعض خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بوتل بند پانی کو عام طور پر مختلف جدید طریقوں سے صاف کیا جاتا ہے، جس کے باعث یہ جراثیم سے پاک ہو جاتا ہے۔ تاہم اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پلاسٹک کی بوتلیں زیادہ درجہ حرارت یا براہ راست دھوپ کے سامنے طویل وقت تک رکھی جائیں۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق شدید گرمی میں پلاسٹک کی بوتلوں سے انتہائی باریک ذرات، جنہیں مائیکرو پلاسٹکس کہا جاتا ہے، پانی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرات بعد ازاں پانی پینے والے افراد کے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مائیکرو پلاسٹکس کے طویل المدتی اثرات پر دنیا بھر میں تحقیق جاری ہے، لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے، خصوصاً ایسے ممالک میں جہاں موسم انتہائی گرم رہتا ہے اور بوتل بند پانی اکثر کھلی جگہوں یا دھوپ میں رکھا جاتا ہے۔

صحت کے ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ جہاں ممکن ہو گھر میں فلٹر شدہ یا ابلا ہوا پانی استعمال کریں اور روزمرہ استعمال کے لیے شیشے یا اسٹین لیس اسٹیل کی بوتلوں کو ترجیح دیں۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق بوتل بند پانی کا بڑھتا ہوا استعمال پلاسٹک آلودگی میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ استعمال شدہ بوتلیں ماحول میں طویل عرصے تک موجود رہتی ہیں اور ماحولیاتی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ محفوظ پانی کا استعمال انسانی صحت کے لیے ضروری ہے، تاہم اس کے ساتھ پانی ذخیرہ کرنے کے طریقوں اور استعمال ہونے والے مواد پر بھی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔