ایران ،امریکہ میں جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کی عالمی اپیلیں
مختلف ممالک کی جانب سے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا گیا
فائل فوٹو
سعودی عرب نے اردن، بحرین اور کویت پر ایران کی جانب سے بار بار ہونے والے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی اور سفارتی مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ برادر ممالک کی خودمختاری پر حملوں کا تسلسل خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے اور تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں۔
قطر اور مصر نے بھی ایرانی حملوں کو خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ کویت اور خلیج تعاون کونسل نے بھی ان اقدامات کی سخت مذمت کی۔
امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کی جس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں، جبکہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
چین نے مشرق وسطیٰ میں جاری صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ تمام فریق فوجی کارروائیاں روکیں اور سفارتی ذرائع کی طرف واپس آئیں، کیونکہ کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔
پاکستان نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جنگ بندی کی مفاہمت پر عملدرآمد کی اپیل کی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے، تاہم حالیہ صورتحال نے سفارتی عمل کو متاثر کیا ہے۔
پاکستان اور قطر کی سرپرستی میں مذاکرات کی بحالی کی اپیل بھی سامنے آئی ہے، جبکہ مختلف ممالک خطے میں امن و استحکام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔