امریکا اور ایران کےدرمیان معاہدہ طے،اتوار کو دستخط ہونے کاامکان۔بلومبرگ کا دعویٰ

جنگ بندی، آبنائے ہرمز اور پابندیوں پر اہم پیش رفت

June 12, 2026 · اہم خبریں

فائل فوٹو

امریکی جریدے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی مفاہمت طے پا گئی ہے اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو متوقع ہیں۔

امریکی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پیر سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جی سیون سمٹ کا آغاز ہو رہا ہے اور اس اجلاس سے قبل امریکا اور ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر سکتے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی مفاہمت طے پا گئی ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز فوری کھولنے اور 60 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پابندیوں میں نرمی ایران کے عملی اقدامات سے مشروط ہوگی جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات جنگ بندی کے دوران جاری رہیں گے۔ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہوگا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں پابندیوں کے خاتمے کی شرط شامل ہے۔ اس کے تحت ایران کے اطراف سے امریکی فوجیوں کا انخلا ہوگا، خلیج عمان میں ایران کی ناکہ بندی ختم کی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی تیل پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں گی، ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے جبکہ حتمی مذاکرات جوہری پروگرام اور معاشی امور پر ہوں گے۔ مفاہمتی یادداشت میں ایران کے میزائل پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت شامل نہیں ہوگی۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہیں اور رواں ہفتے کے آخر تک ڈیل پر دستخط ہو جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کے بعد ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے ایرانی سپریم لیڈر معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں اور اس کی تفصیلات جلد سامنے آ جائیں گی، تاہم باضابطہ ڈیل تک ایران کی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ سفارتی رابطے جاری ہیں لیکن سمجھوتہ تاحال طے نہیں پایا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس معاملے پر ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے، متن کے بڑے حصوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، تاہم ایران اپنی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔