عقل داڑھ کیوں نکلتی ہے اور بعض افراد کو شدید درد کیوں ہوتا ہے؟

ان بڑی داڑھوں میں سے سب سے آخری چار دانت، دو اوپر اور دو نیچے، "عقل داڑھ" یا "وزڈم ٹوتھ" کہلاتے ہیں۔

June 15, 2026 · کائنات کے رنگ

اسلام آباد: کیا آپ جانتے ہیں کہ انسان کے منہ میں کھانا چبانے کے لیے کتنے دانت ہوتے ہیں اور “عقل داڑھ” کو یہ نام کیوں دیا گیا؟ ماہرین کے مطابق ایک بالغ انسان کے منہ میں مجموعی طور پر 20 داڑھیں ہوتی ہیں، جن میں 8 چھوٹی اور 12 بڑی داڑھیں شامل ہیں۔

چھوٹی داڑھیں خوراک کو توڑنے کا کام کرتی ہیں جبکہ بڑی داڑھیں کھانے کو اچھی طرح پیس دیتی ہیں۔ ان بڑی داڑھوں میں سے سب سے آخری چار دانت، دو اوپر اور دو نیچے، “عقل داڑھ” یا “وزڈم ٹوتھ” کہلاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عقل داڑھ کا نام سن کر بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے نکلنے سے انسان زیادہ عقل مند ہو جاتا ہے، تاہم حقیقت میں اس کا عقل سے کوئی تعلق نہیں۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ یہ دانت عموماً 17 سے 25 سال کی عمر کے درمیان نکلتے ہیں، جب انسان نسبتاً بالغ اور باشعور ہو چکا ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق قدیم انسان سخت اور کچی غذا، خصوصاً گوشت، استعمال کرتے تھے جسے چبانے کے لیے اضافی داڑھوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ وقت کے ساتھ خوراک نرم ہوتی گئی اور انسانی جبڑے نسبتاً چھوٹے ہو گئے، جس کے باعث آج کل عقل داڑھ کے لیے مناسب جگہ کم رہ جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب عقل داڑھ مکمل طور پر باہر نہ نکل سکے اور جزوی طور پر مسوڑھے کے اندر رہ جائے تو وہاں خوراک پھنسنے لگتی ہے۔ صفائی میں دشواری کے باعث بیکٹیریا جمع ہوتے ہیں جو انفیکشن، سوجن اور شدید درد کا سبب بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق عقل داڑھ کا نکلنا ایک قدرتی عمل ہے اور ضروری نہیں کہ ہر شخص کو اس کے باعث تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔ درد عموماً اسی صورت میں ہوتا ہے جب دانت کے لیے مناسب جگہ موجود نہ ہو یا اس کے نکلنے کا راستہ متاثر ہو۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ عقل داڑھ نکلنے کے دوران درد، سوجن یا دیگر علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر دندان ساز سے رجوع کریں تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔