دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ ملکی معیشت میں واپس چلا جاتا ہے ،اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار

مختص کردہ رقم کا 80 فیصد سے زائد حصہ لازمی اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے، جس میں جوانوں کے راشن، تنخواہوں، اور عسکری تنصیبات کی دیکھ بھال شامل ہے ، میڈیا سے گفتگو

June 16, 2026 · اہم خبریں, قومی
فوٹو آئی ایس پی آر

فوٹو آئی ایس پی آر

سیکیورٹی ذرائع نے دفاعی بجٹ کی اندرونی تقسیم پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس مختص کردہ رقم کا 80 فیصد سے زائد حصہ لازمی اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے، جس میں جوانوں کے راشن، تنخواہوں، اور عسکری تنصیبات کی دیکھ بھال شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ لازمی اخراجات کسی بیرونی سرمائے کی طرح ضائع نہیں ہوتے، بلکہ تنخواہوں اور راشن کی خریداری کی صورت میں واپس ملکی معیشت کا حصہ بن کر اسے استحکام فراہم کرتے ہیں۔

بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ لازمی اخراجات وضع کرنے کے بعد نئے جدید ساز و سامان کی خریداری، طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں اور سپاہ کی مجموعی استعداد کار (Capacity Building) کو بڑھانے کے لیے بجٹ کا ایک انتہائی محدود حصہ ہی باقی بچتا ہے۔

علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا کہ روایتی حریف بھارت کا دفاعی بجٹ 90 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو کہ پاکستان کے کل دفاعی بجٹ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ اس وسیع فرق کے باوجود پاکستانی افواج کم ترین وسائل میں بہترین دفاعی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان کی مسلح افواج اس وقت بیک وقت تین محاذوں پر نبردآزما ہیں، سرحدوں کا روایتی دفاع۔ سائبر اور جدید دور کی ٹیکنالوجی پر مبنی خطرات۔ملک کے اندرونی استحکام کے لیے جاری معرکے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگیں تکنیکی استعداد اور جدید مہارتوں میں بہتری کی متقاضی ہیں، جبکہ دوسری جانب انسدادِ دہشت گردی کی موجودہ جنگ میں افرادی قوت پر انحصار ناگزیر ہے۔ ان تمام کثیر الجہتی آپریشنل صلاحیتوں اور مستقبل کی عسکری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی دفاعی بجٹ میں حالیہ اضافہ کیا گیا ہے۔

نشست کے اختتام پر اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے دوٹوک انداز میں پاک فوج کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کپہ وسائل کم ہوں یا ضرورت زیادہ، ہمارے عزم میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ آپ کی افواج دفاعِ وطن کے مقدس فریضے کے لیے فخر کے ساتھ ہمہ وقت اور ہر طرح کے حالات میں تیار ہیں۔