پاکستان ٹیلی ویژن کی پہلی آواز طارق عزیز کو خاموش ہوئے 6 برس بیت گئے
دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے"۔ یہ جملہ ان کی پہچان بن گیا اور ایک پوری نسل کے ذہنوں میں نقش ہو گیا۔
پاکستان ٹیلی ویژن کی پہلی آواز اور معروف براڈکاسٹر، کمپیئر اور ہمہ جہت شخصیت طارق عزیز کو دنیا سے رخصت ہوئے چھ برس بیت گئے۔
طارق عزیز کی یاد آج بھی ان الفاظ کے ساتھ تازہ ہے: “دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے”۔ یہ جملہ ان کی پہچان بن گیا اور ایک پوری نسل کے ذہنوں میں نقش ہو گیا۔
طارق عزیز 28 اپریل 1936 کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ساہیوال منتقل ہوئے جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 1950 کی دہائی میں ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔
1964 میں پاکستان ٹیلی ویژن کے باقاعدہ آغاز کے وقت ان کی آواز پہلی نشریات میں نشر ہوئی، جس کے باعث انہیں پی ٹی وی کی پہلی آواز ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ بعد ازاں ان کا مشہور پروگرام “نیلام گھر” بے حد مقبول ہوا جو بعد میں “طارق عزیز شو” اور “بزم طارق عزیز” کے نام سے بھی نشر ہوتا رہا۔
طارق عزیز نہ صرف ایک مقبول کمپیئر تھے بلکہ اداکار، شاعر اور سیاستدان بھی رہے۔ انہوں نے متعدد فلموں میں اداکاری کی اور ادبی کام بھی کیا۔ ان کی کتاب “داستان” اور پنجابی شاعری کا مجموعہ “ہمزاد دا دکھ” بھی شائع ہوا۔
انہیں 1992 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت کئی قومی اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ 1997 میں قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔
طارق عزیز کی خدمات اور انداز بیان آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔