امریکا ایران امن معاہدہ یمن میں سیاسی حل کی راہ ہموار کر سکتا ہے:پاکستان

پاکستان ہمیشہ سے تنازعات کے پرامن حل اور مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے۔

June 17, 2026 · اہم خبریں

پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا حالیہ امن معاہدہ یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل اور امن عمل کی بحالی کے لیے سازگار ماحول فراہم کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمن کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے سفارت کاری اور مذاکرات کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والا امریکا ایران معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے فروغ کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے تنازعات کے پرامن حل اور مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت یمن میں بھی امن کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی تاکہ یمنی عوام کو استحکام اور ترقی کے ثمرات مل سکیں۔

انہوں نے کہا کہ یمن کو اس وقت سنگین سیاسی، معاشی اور انسانی چیلنجز کا سامنا ہے۔ 2014 سے جاری تنازع میں ایک جانب بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور دوسری جانب حوثی تحریک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے کی لڑائی اور بحری جہازوں پر حملوں میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ کشیدگی میں کمی ممکن ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ یمن کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی نگرانی میں، یمنیوں کی قیادت اور ملکیت والے سیاسی عمل سے ہی ممکن ہے جو تمام فریقین کے خدشات کو دور کرے۔

پاکستانی مندوب نے انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں یمنی اب بھی امداد کے محتاج ہیں جبکہ مالی وسائل کی کمی اور اقتصادی بحران صورتحال کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی امداد اور اقتصادی استحکام کے لیے مزید تعاون فراہم کرے تاکہ یمن میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکے۔