پیپلزپارٹی قیادت کی ہدایت ہے بڑی اسکیموں پرتوجہ دی جائے:مراد علی شاہ
مراد علی شاہ نے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور این ایف سی پر مؤقف بیان کیا
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے اب چھوٹی اسکیموں سے نکل کر بڑی اسکیمیں لانے کی ہدایت کی ہے۔
کراچی میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کا سب سے بڑا خرچہ تنخواہوں اور پنشن پر ہوتا ہے، اسی لیے تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 اور 2025 کے ایڈہاک الاؤنس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے ، آئندہ مالی سال میں کم از کم آمدن 43 ہزار روپے ہوگی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 26.2 ارب روپے ایس آئی یو ٹی کو گرانٹ دی جائے گی 155 ارب روپے کی گرانٹ لوکل گورنمنٹ کو فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے سال 2056 جاری اسکیمیں مکمل کی جائیں گی تاہم موجودہ بجٹ میں کوئی نئی اسکیم شامل نہیں کی گئی۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ باقی تینوں صوبے بھی پیپلزپارٹی کی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں اور قیادت کے کردار کی وجہ سے آئندہ دو برسوں میں فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہدایت کی ہے کہ اب چھوٹی چھوٹی اسکیموں سے نکل کر بڑا سوچا جائے، اور انہیں امید ہے کہ پیپلزپارٹی کی منصوبہ بندی سے حالات میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کو ایسے اقدامات کرنا پڑے جو پہلے زیر غور نہیں تھے۔ این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر نظرثانی کی تجویز دی گئی تھی تاہم پیپلزپارٹی نے اسے مسترد کر دیا کیونکہ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ ملکی دفاع اور یکجہتی کے لیے تمام صوبوں نے تعاون کیا اور آرٹیکل 164 کے تحت وفاق کو گرانٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق حکومت سندھ نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے فنڈز فراہم کیے، تاہم گرانٹ دینے کی صوبوں نے یقیناً ایک قیمت بھی ادا کی ہے۔