اسلام آباد ہائیکورٹ کاعمران،بشریٰ بی بی کےوکالت نامے فراہم کرنے کا حکم
ایڈووکیٹ جنرل آفس کو سات روز میں عمل درآمد کی ہدایت
فائل فوٹو
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے عدالتی آرڈر کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکالت نامے دستخط کرا کر فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کو ہدایت کی کہ وہ سات روز کے اندر عمل درآمد یقینی بنائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطلی کے بجائے سزا کے خلاف اپیلیں سننے کے 30 اپریل کے عدالتی حکم کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں، تاہم وکالت نامے تاحال فراہم نہیں کیے گئے اور نہ سپرنٹنڈنٹ جیل نے ان پر دستخط کروائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی گئی، بشریٰ بی بی سے گزشتہ چھ ماہ سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی آنکھوں کا مسئلہ بھی ہے، مگر جیل حکام وکالت ناموں پر دستخط کرا کر فراہم نہیں کر رہے۔
چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اگر درخواست گزار اگلے فورم سے رجوع کرنا چاہتے ہیں تو انہیں وکالت نامے درکار ہیں، پھر انہیں دستخط شدہ وکالت نامے کیوں فراہم نہیں کیے گئے۔
نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ وکالت ناموں کے معاملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اس پر بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ کیا جیل حکام چاہتے ہیں کہ اپیل کا وقت گزر جائے اور بعد میں وکالت ناموں پر دستخط کرائے جائیں۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس سات روز میں عدالتی حکم پر عمل درآمد کرائے اور وکالت ناموں پر دستخط کرا کر فراہم کرے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت جون کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔