یوکرین کا ماسکو پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ، گیس پروم ریفائنری میں شدید آگ
ماسکو کے قریب اہم تیل کی ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا، روسی فضائی دفاع نے درجنوں ڈرونز مار گرائے، فلائٹس معطل
ماسکو میں ریفائنری پر حملے کے بعد آگ بھڑک رہی ہے آسمان پر سیاہ دھواں چھایا ہوا ہے
یوکرین نے بدھ کی رات اور جمعرات کی صبح کے درمیان روسی دارالحکومت ماسکو اور اس کے آس پاس بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ کیا۔ جس کے بعد شدید آگ لگ گئی۔
روسی حکام کے مطابق یہ گزشتہ دو سالوں میں ماسکو پر یوکرین کا سب سے بڑا ڈرون حملہ تھا۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبینن نے اسے “بڑے پیمانے پر حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی فضائی دفاع نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا، تاہم کچھ ڈرونز اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
حملے میں ماسکو کے جنوب مشرقی علاقے کاپوٹنیا میں واقع گیس پروم نیفٹ آئل ریفائنری کو شدید نقصان پہنچا اور وہاں بھرپور آگ لگ گئی جس کی وجہ سے آسمان میں کالا دھواں اٹھتا نظر آیا۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبینن نے بتایا کہ روسی فضائی دفاع نے درجنوں ڈرونز کو مار گرایا، البتہ کچھ ڈرونز ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
ریفائنری پر یہ حملہ رواں ہفتے دوسری بار ہوا ہے۔ پچھلے حملے میں بھی اسی سہولت کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں ریفائنری کے اہم حصے متاثر ہوئے تھے۔ یہ ریفائنری ماسکو ریجن کو تقریباً ایک تہائی پٹرول اور ڈیزل فراہم کرتی ہے۔
حملے کے باعث ماسکو کے چار بڑے ہوائی اڈوں پر فلائٹس عارضی طور پر معطل کر دی گئیں جس سے سینکڑوں پروازیں متاثر ہوئیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ڈرون کے ملبے گرنے سے معمولی نقصان ہوا جبکہ کچھ افراد زخمی بھی ہوئے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے روس کے یوکرینی شہروں پر حملوں کا “مکمل طور پر جائز جواب” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کی فورسز نے روس کی جنگی مشینری کو سپورٹ کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
یہ حملہ روس یوکرین جنگ میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یوکرین نے ماسکو جیسے حساس علاقے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔