امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دی، سینٹ کام کا باضابطہ اعلان
ناکہ بندی ختم ہونے کے باوجود امریکی بحریہ کے جنگی جہاز خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھیں گے ،ایکس پر بیان
فائل فوٹو
واشنگٹن / دبئی: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور امن کے معاہدے (ایم او یو) کی دستخطی دستاویز کے بعد ایک بڑی عسکری پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں سے تمام تجارتی و بحری ٹریفک کی آمد و رفت پر عائد ناکہ بندی باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ ایک آفیشل بیان میں سینٹ کام نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق امریکی افواج نے یہ ناکہ بندی فوری طور پر ہٹا دی ہے۔
بیان کے مطابق امریکی افواج خلیج فارس (عربین گلف) اور عمان کی خلیج میں ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے اور وہاں سے جانے والے کسی بھی بحری جہاز کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہی ہیں۔
ناکہ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے جاری تمام تر امریکی عسکری کوششیں اور انسدادی اقدامات اب مکمل طور پر روک دیے گئے ہیں۔
ناکہ بندی ختم ہونے کے باوجود امریکی بحریہ کے جنگی جہاز خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے تمام قانونی پہلوؤں اور شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
Today, U.S. forces lifted the blockade on all maritime traffic entering and exiting Iranian ports and coastal areas, in accordance with the President's direction. American forces are not impeding the transit of vessels to or from Iranian ports. All U.S. military blockade…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 18, 2026
امریکی انتظامیہ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق اس ناکہ بندی کے ہٹنے کے ساتھ ہی اہم تجارتی بحری گزرگاہ ‘تنگہ ہارمز’ کھول دی گئی ہے، جہاں سے ریکارڈ لاکھوں بیرل خام تیل کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے اس امن معاہدے کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ 60 روز تک باضابطہ مذاکرات کا دورانیہ بھی شروع ہو گیا ہے، جس کی ابتدائی نشستیں سوئٹزرلینڈ میں طے پائی ہیں۔