ایران امریکہ معاہدے کا اعلان پاکستان نے کیا۔صدمے کے مارے اسرائیلی صحافی کی گردان
واشنگٹن اور تہران کے درمیان محض ایک سفارتی کامیابی سے زیادہ سمجھا جارہاہے
امریکا ایران معاہدہ فوری نافذ،ایران آبنائے ہرمز کھولے گا:وزیراعظم
ایران اور امریکہ میں ’’ اسلام آباد میمورینڈم‘‘ یا’’ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ‘‘کی دستاویزپرمبنی سمجھوتہ طے پانے کا پاکستانی اعلان اسرائیلی میڈیاپر بجلی بن کر گرا۔ ایک صیہونی صحافی کی رپورٹ میں اس بات کی گردان ،اسرائیلی میڈیاکا صدمہ ظاہرکرتی ہے۔اس میں باربار یہ بات کہی گئی کہ معاہدے کا اعلان پاکستان کی طرف سے ہوا۔
میرون ریپوپورٹ نے ایک تجزیئے میں لکھاہے کہاسرائیلی امریکہ اور ایران جنگ بندی معاہدے کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان محض ایک سفارتی کامیابی سے زیادہ سمجھ رہے ہیں۔ صیہونی سیاسی اور فوجی اشرافیہ کے حلقوں کے لیے یہ اسٹریٹجک موڑ کی حیثیت رکھتا ہے جو اسرائیل کے علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کر سکتا ہے، اس کے سب سے اہم اتحاد کو تناؤ میں ڈال سکتا ہے اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کےسیاسی زوال کو تیز کر سکتا ہے۔
اسرائیلی صحافی کا کہناہے کہ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی توقع اپریل سے ہی کی جا رہی تھی، لیکن اتوار کو پاکستان کے اس اعلان نے کہ معاہدہ طے پا گیا ہے، پورے ملک میں صدمے کی لہریں دوڑا دیں۔
معاہدے کی شرائط کے بارے میں اب بھی بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات باقی ہیں، لیکن اسرائیل کے سیاسی اور فوجی اداروں نے توقع نہیں کی تھی کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ مہم ایران کے خلاف اس طرح ختم ہوگی۔
جب نیتن یاہو نے ۲۸ فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی تو اسرائیل کے مقاصد واضح نظر آتے تھے: ایران کے جوہری اور بالیسٹک میزائل پروگراموں کو ختم کرنا اور ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا۔ تقریباً چار ماہ بعد ان میں سے کوئی بھی ہدف حاصل نہیں ہوا۔ اس کے بجائے ایران فروری کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہا ہے۔
ملک اب بھی اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کو برقرار رکھے ہوئے ہے، اس کی قیادت اسرائیل کے لگائے گئے دھچکوں کے باوجود، بشمول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے باوجود، مضبوط ہو کر ابھری ہے۔ ایران علاقائی طاقت کے طور پر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ عرب خلیجی ریاستیں اسرائیل کے بجائے تہران کے قریب تر ہو رہی ہیں۔
دوسری طرف اسرائیل کئی دہائیوں میں پہلی بار ایسی پوزیشن میں ہے جس کا اسے سامنا نہیں کیا۔ بہت سے اسرائیلی پہلے سے کہیں زیادہ تنہا محسوس کر رہے ہیں۔گزشتہ ڈھائی سال سے تنہائی کا احساس بڑھ رہا تھا کیونکہ غزہ میں اسرائیل کی مہم کی وجہ سے دنیا بھر میں اسرائیلیوں کے بائیکاٹ ہو رہے تھے۔لیکن اب صورتحال مختلف لگ رہی ہے۔
میرون ایک بارپھر اپنی اصل پریشانی کی طرف لوٹتے ہوئے مزید کہتاہے کہ پاکستان کی طرف سے معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیل اب امریکہ سے بھی تنہا ہوتا جا رہا ہے، اور رپورٹس میں نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بڑھتی ہوئی دراڑ کا ذکر ہے۔بہت سے اسرائیلیوں کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں کوئی دراڑ ملک کے لیے وجودی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل کی سلامتی کا نظریہ ہمیشہ سے امریکہ کے ساتھ اس کے اتحاد پر مبنی رہا ہے۔