واجبات اداکرنے کے لیے رشوت مانگنے پروزارتِ منصوبہ بندی افسران کیخلاف درخواست
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیا
فائل فوٹو
اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزارتِ منصوبہ بندی کے افسران کے خلاف رشوت کے مطالبے کے الزام پر درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ کروڑوں روپے کے واجبات کی ادائیگی کے بدلے مبینہ طور پر رشوت کا مطالبہ کیا گیا،جس پر ٹھیکیداروں اور کمپنیز نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ درخواست میں وزارتِ منصوبہ بندی کے تین افسران کو فریق بنایا گیا ہے۔
عدالت نے سیکرٹری وزارتِ منصوبہ بندی اور دیگر فریقین کو پری ایڈمیشن نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ نوٹس جسٹس خادم حسین سومرو نے سماعت کے دوران جاری کیا، اور اس حوالے سے تحریری حکم نامہ بھی جاری کیا گیا۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وزارتِ منصوبہ بندی کو ان کے کروڑوں روپے کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دیا جائے، الزام لگایا گیا ہے کہ افسران جائز واجبات روک رہے ہیں اور رشوت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام متعلقہ ریکارڈ، ورک آرڈرز اور بلوں کی تصدیق کی فائلیں طلب کی جائیں اور افسران کے اقدامات کو غیر قانونی، بدنیتی پر مبنی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیا جائے۔
مزید استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی دی جائے۔