نجی املاک میں بغیر اجازت موبائل ٹاور کی تنصیب اور جرمانے کی خبروں پر حکومت کی وضاحت

وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا مجوزہ قانون سازی پر بیان جاری

June 21, 2026 · امت خاص

 

وزارتِ انفرمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) (ترمیمی) بل 2026 میں شامل متنازع رائٹ آف وے شقوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شقیں نجی املاک کے حقوق کا مکمل تحفظ کرتی ہیں اور ٹیلی کام آپریٹرز کو مالک کی اجازت یا قانونی کارروائی کے بغیر نجی جائیداد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتیں۔

وزارت نے جاری کردہ پریس ریلیز میں واضح کیا کہ بل کا مقصد ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کو تیز کرنا، عوام کو بہتر اور سستی انٹرنیٹ سہولیات فراہم کرنا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ مجوزہ شقیں نجی زمین کے جبری حصول کی اجازت نہیں دیتیں۔

وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جائیداد کے مالکان کو جواب دینے، مذاکرات کرنے، معاوضہ طلب کرنے اور اعتراضات اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہوگا۔

اگر مالک متعدد یاد دہانیوں کے باوجود جواب نہ دے تو معاملہ متعلقہ سرکاری ادارے کو بھیجا جائے گا، تاہم اس دوران ٹیلی کام کمپنی نجی زمین پر زبردستی داخل نہیں ہو سکے گی۔ -جرمانوں کی شقیں صرف ان مالکان پر لاگو ہوں گی جو معاہدے کے بعد شرائط سے انحراف کریں۔ عام انکار پر جرمانہ نہیں ہوگا۔ کام مکمل ہونے کے بعد جائیداد کو اصل حالت میں بحال کرنا لازمی ہوگا۔ وزارت نے مزید بتایا ہے کہ موجودہ نظام میں رائٹ آف وے کی پیچیدگیوں، من مانی فیسوں اور غیر یکساں تقاضوں کی وجہ سے ٹیلی کام نیٹ ورک کی توسیع سست اور مہنگی ہو گئی ہے، جس سے صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔ نئی ترامیم ایک شفاف قانونی فریم ورک فراہم کریں گی جو سرکاری، ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور انفرادی نجی املاک سب کا احاطہ کرے گی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ان شقوں کا تفصیلی جائزہ لیا، مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر غور کیا اور پھر انہیں حتمی شکل دی گئی۔ بل فی الحال سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن میں زیرِ غور ہے۔

وزارت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شفاف، مشاورتی اور جامع قانون سازی کے عمل کی حمایت کرتی ہے اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

یہ وضاحتی بیان اس وقت سامنے آیا جب بل کی بعض شقوں پر تنقید کی جا رہی تھی اور سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ سینیٹ کمیٹی نے اس بل پر مزید غور و خوض کے لیے اسے التوا میں ڈال دیا ہے۔