مذاکرات کے دوران ٹرمپ کی دھمکیاں، ایرانی وفد کا دوسرے مرحلے میں شرکت سے انکار
امریکا، ایران مذاکرات تعطل کا شکار ، ختم نہیں ہوئے، امریکی میڈیا
فوٹو سوشل میڈیا
برگن اسٹاک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تازہ دھمکیاں سامنے آنے پر ایرانی وفد نے سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت سے احتجاج انکار کردیا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے مرحلے میں پاکستان کی ثالثی کے تحت امریکا اور ایران کی اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے درمیان 45 منٹ تک تفصیلی بات چیت ہوئی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پہلے راؤنڈ میں لبنان کی صورتحال، آبنائے ہرمز، ایرانی جوہری ذخائر اور آئندہ 60 روزہ مذاکراتی عمل کے خدوخال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان واضح اور کھل کر گفتگو ہوئی۔
دوسری جانب ایرانی وفد سے متعلقہ امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے ہیں لیکن ختم نہیں ہوئے ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں مذاکرات میں سفارتی وفود کی واپسی کےلیے بیک چینل بات چیت ہورہی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ایرانی وفد کے رکن مہدی قربان زادہ کے بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ایرانی تیل پر نرمی کے حوالے سے تجویز کا حتمی مسودہ مکمل کرلیا ہے۔
مہدی قربان زادہ نے مزید کہا کہ لبنان کے مسئلے کے حل تک دوسرے معاملات پر مزید بات چیت نہیں ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات میں منجمد اثاثوں کی بحالی کے انتظامات پر بات چیت کی ہے، مذاکرات میں ایران کے توانائی کے شعبے پر پابندیوں میں نرمی پر توجہ مرکوز کی گئی۔