ایرانی وفد نے واک آؤٹ کی دھمکی دی تھی،جے ڈی وینس

مذاکرات میں جانے سے قبل امریکی وفد نے چار اہداف طے کیے تھے اور چاروں حاصل کر لیے گئے ، صحافیوں سے گفتگو

فائل فوٹو

فائل فوٹو

برگن اسٹاخ: سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ پچھلے 24 گھنٹے بہت اچھے رہے ہیں، لبنان میں امن رہا ہے جبکہ آبنائے ہرمز بھی کھلی رہی۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اتوار کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں معاملات کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے واک آوٹ کی دھمکی دی تھی یا سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، لیکن اس کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے تک بات چیت جاری رہی۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ عالمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز ایران جائیں گے اور اس بات کی نگرانی کریں گے کہ آیا ایران ابتدائی معاہدے پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔

امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم حتمی معاہدے تک پہنچیں اور اس معاملے کا مستقل حل ہو، لیکن اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے بڑی پیش رفت کی ہے۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ میں نے رات دو بجے آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو ٹیلی فون کیا، لیکن آپ سمجھ سکتے ہیں ک رات دو بجے بہت کم لوگ فون اُٹھاتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس ہفتے انسپکٹرز ایران جا سکتے ہیں اور اس حوالے سے ہم آج اُن سے بات کر سکتے ہیں۔

لبنان کے سکیورٹی زون میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے سوال پر امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ لبنان کی خودمختاری کا تحفظ ہو۔

امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں جانے سے قبل امریکی وفد نے چار اہداف طے کیے تھے اور چاروں حاصل کر لیے گئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پہلا ہدف یہ تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور سٹریٹجک آبی گزرگاہ میں کسی بھی تنازع کو وسیع تر تنازعے میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے ایک طریقہ کار وضح کیا جائے۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اس آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل پہلے ہی بڑھ چکی ہے اور مذاکرات کاروں نے مستقبل میں اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی تنازع سے بچاؤ کے لیے ایک فریم ورک بنایا ہے۔

اُن کے بقول دوسرا ہدف علاقائی جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر مرکوز تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکی حکام نے ایسے مواصلاتی چینلز قائم کرنے کے لیے کام کیا جو تشدد بڑھنے سے روکنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہوں اور اس کے لیے علاقائی سٹیک ہولڈرز کو استعمال کیا جا سکے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ ’اگر لڑائی شروع ہو تو ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسے کیسے روکنا ہے۔‘

امریکی نائب صدر کے بقول تیسرا ہدف یہ تھا کہ ایران عالمی توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کو ایران آنے کی اجازت دے۔ اُن کے بقول اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ ایران ان انسپکٹرز کو واپس بلائے گا۔ یہ امریکی عوام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔

امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ چوتھا مقصد یہ تھا کہ تکنیکی مذاکرات کو آنے والے ہفتوں میں جاری رکھا جائے۔ وینس نے کہا کہ امریکی، ایرانی، قطری اور پاکستانی حکام نے ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے درکار عمل اور نگرانی کے ڈھانچے کو قائم کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔

سوئٹزرلینڈ مذاکرات کو کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہوئے وینس نے زور دیا کہ مذاکرات کار ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچے ہیں۔