ایران نے جوہری معاملے پر اہم رعایتیں دیں۔ امریکہ کا دعویٰ
امریکی نائب صدر کے مطابق تکنیکی کمیٹیاں آئندہ لائحہ عمل طے کریں گی
ایران مذاکرات کا اگلا مرحلہ تہران کے فیصلے سے مشروط ہے،جے ڈی وینس
امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری پروگرام سے متعلق اہم رعایتیں دی ہیں، تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کے لیے جوہری معاملہ مذاکرات کا مرکزی نکتہ ہے، اسی وجہ سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ابتدائی مرحلے میں شریک ہوئے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا بنیادی مقصد ہے اور اسی حوالے سے ایک فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے۔
جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ سے واپسی پر کہا کہ ایرانی فریق نے اہم رعایتیں دی ہیں، جن میں طویل عرصے بعد جوہری معائنہ کاروں کو دوبارہ اجازت دینے پر آمادگی شامل ہے۔ ان کے مطابق امریکہ معائنہ کے نظام کو مزید مضبوط بنائے گا تاکہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی کمیٹیاں اس معاملے پر تفصیلی بات چیت جاری رکھیں گی اور مستقبل میں وہ دوبارہ سوئٹزرلینڈ جا سکتے ہیں۔
تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ معائنہ کاروں کو داخلے کی اجازت دینے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، جس سے دونوں فریقوں کے بیانات میں تضاد سامنے آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ 50 روز میں مذاکراتی عمل میں مزید پیش رفت اور اختلافات دونوں سامنے آسکتے ہیں، اور حتمی معاہدہ ہی اصل صورتحال واضح کرے گا۔