محرم الحرام میں پنجاب کے مختلف شہروں میں مٹی سے بنے برتنوں کی فروخت عروج پر

یوم عاشور تک مٹی کے ان برتنوں میں کھیر،کسٹرڈ، حلوہ دیگراشیا کی نیاز تقسیم کرتے ہیں۔

June 26, 2026 · قومی

محرم الحرام میں پنجاب کے مختلف شہروں میں مٹی سے بنے برتنوں کی فروخت عروج پر پہنچ گئی ہے۔
سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاول پور سمیت پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں یوم عاشور کے سلسلہ میں جگہ جگہ کچی مٹی سے بنی ہوئی کجیوں،ٹھوٹھیوں کی فروخت عروج پر پہنچ گئی ہے۔

کیونکہ اکثر پاکستانی مذہبی عقائد و عقیدت کے طورپر یوم عاشور تک مٹی کے ان برتنوں میں کھیر، کسٹرڈ، حلوہ اور دیگراشیا کی نیاز تقسیم کرتے ہیں۔
کجیوں ٹھوٹھیوں میں نیاز تقسیم کرنے کی قدیمی روایت تاحال زندہ ہے اور یوم عاشور کے موقع پر نذر و نیاز کی خاطر بچے کجیاں ٹھوٹھیاں خریدنے میں دلچسپی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سیالکوٹ میں امام علی الحق کے قرب و جوار میں لگائے گئے مذکورہ کچے برتنوں کے ٹھیلوں کے مالکان نے بتایاکہ وہ سارا سال مٹی کے مذکورہ کچے برتن تیار کرتے ہیں جنہیں محرم الحرام کے موقع پر فروخت کیاجاتاہے۔ انہوں نے بتایاکہ عقیدت مند بڑی تعداد میں یہ چھوٹے برتن خریدتے ہیں جن میں اپنی منتوں و نیاز کے ضمن میں میٹھے پکوان بشمول کھیر، کسٹرڈ،حلوہ، چاول وغیرہ ڈال کر بچوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

عشرہ عاشور کے دوران بچے بھی بڑوں کے ساتھ ساتھ نذر ونیاز کی تقسیم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور نیاز پکواکر کجیوں ٹھوٹھیوں میں تقسیم کرتے ہیں، مٹی سے بنے ان چھوٹے چھوٹے برتنوں میں ایک پلیٹ بنائی گئی ہوتی ہے جس کو کجی کہا جاتا ہے اور اس میں چاول، کھیر، کسٹرڈ یا ایسی ہی کھانے کی اشیا جبکہ ہانڈی کی طرز پر بنائے جانیوالے برتن کو ٹھوٹھی کہا جاتا ہے جس میں دودھ اور شربت سمیت دیگر مشروبات ڈال کر تقسیم کئے جاتے ہیں، چھوٹے چھوٹے برتن کجیاں ٹھوٹھیاں بنا کر فروخت کرنے والے دکاندار دور دراز پسماندہ علاقوں سے کثیر مقدار میں یہ برتن بناکر فروخت کرتے ہیں۔