پٹرولیم قیمتوں پر تنقید کا جواب،وزیرپٹرولیم نے اعداد و شمار پیش کر دیے

27 فروری کو پٹرول کی قیمت 76 ڈالر فی بیرل تھی جو 2 اپریل تک بڑھ کر 136 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی

June 27, 2026 · قومی
پٹرولیم قیمتوں پر تنقید کا جواب،وزیر انرجی نے اعداد و شمار پیش کر دیے

اسلام آباد: وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کی بنیاد پر شفاف انداز میں قیمتوں کا تعین کرتی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے گا۔

صحافی رضوان رازی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں کئی دہائیوں سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سنگاپور کے پلاٹس (Platts) ریٹس کی بنیاد پر مقرر کی جاتی ہیں، جس کا طریقہ کار مکمل طور پر شفاف ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 27 فروری کو پٹرول کی قیمت 76 ڈالر فی بیرل تھی جو 2 اپریل تک بڑھ کر 136 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ اب یہ کم ہو کر 92 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت 89 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 284 ڈالر فی بیرل تک گئی اور بعد ازاں کم ہو کر 105 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ خام تیل کی قیمتیں اب جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب واپس آ چکی ہیں اور ان شاء اللہ عالمی منڈی میں ہونے والی کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ موجودہ لیوی ریٹس فروری کے مقابلے میں کم ہیں اور قیمتوں میں فرق کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں آنے والی تبدیلیاں ہیں، نہ کہ حکومتی ٹیکسوں میں اضافہ۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق تمام حقائق ڈیسک ٹاپ ریسرچ کے ذریعے خود بھی جانچیں تاکہ درست معلومات سامنے آ سکیں۔

وفاقی وزیر کا یہ بیان حالیہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہ ہونے پر سامنے آنے والی تنقید کے جواب میں سامنے آیا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی حالات کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش جاری ہے۔