ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کر لیا
صدر ٹرمپ ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ترجمان
امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں میں مزید شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ جمعے کے روز اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد کیا گیا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکا کے عرب اتحادیوں کے ممکنہ فاصلے اختیار کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق انہی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے صدر ٹرمپ نے فی الحال فوجی کارروائی میں مزید وسعت نہ دینے کا فیصلہ کیا، جبکہ سفارتی کوششوں کو بھی جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس نے ان میڈیا رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جمعے کی رات تقریباً دو ہفتوں میں پہلی بار ایسی رات تھی جب امریکا نے ایران پر کوئی فضائی حملہ نہیں کیا، جبکہ ہفتے کی رات بھی کسی نئی امریکی فضائی کارروائی کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
تاہم امریکی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان جاری نہیں کیا گیا، اس لیے ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر تصدیق تاحال نہیں ہو سکی ہے۔