امریکا اور میکسیکو نے خطرناک کیڑوں کے خلاف مکھیوں کی فوج تیار کرلی

مکھیوں کو سرحدی علاقوں میں چھوڑا جائے گا تاکہ نقصان دہ پیراسائٹ پھیلانے والے کیڑوں کی افزائش کو روکا جا سکے۔

June 29, 2026 · بام دنیا

امریکا اور میکسیکو نے مویشیوں اور دیگر جانوروں کو نقصان پہنچانے والے خطرناک کیڑوں پر قابو پانے کے لیے ایک مشترکہ منصوبے کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت جراثیم سے پاک مکھیوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کی جائے گی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گوئٹے مالا کی سرحد کے قریب میٹاپا ڈی ڈومنگیز میں ایک جدید پیداواری مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں ہر ہفتے تقریباً 10 کروڑ جراثیم سے پاک مکھیاں تیار کی جائیں گی۔ ان مکھیوں کو سرحدی علاقوں میں چھوڑا جائے گا تاکہ نقصان دہ پیراسائٹ پھیلانے والے کیڑوں کی افزائش کو روکا جا سکے۔

تقریباً 5 کروڑ امریکی ڈالر کی لاگت سے مکمل ہونے والا یہ منصوبہ امریکا اور میکسیکو کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام اور امریکی وزیرِ زراعت بروک رولنز نے شرکت کی۔

ماہرین کے مطابق جراثیم سے پاک مکھیوں کے استعمال سے خطرناک کیڑوں کی افزائش میں نمایاں کمی لانے میں مدد ملے گی، جس سے مویشیوں کے تحفظ اور زرعی شعبے کو ممکنہ نقصانات سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا جا سکے گا۔