فرانس:جانوروں سے جنسی زیادتی،افغان شہری کو 30 ماہ قید
شیلٹر ہوم کے عملے نے جانوروں کو زخمی حالت میں دیکھا، جبکہ بعض جانوروں کی ٹانگیں بندھی ہوئی تھیں
پیرس: فرانس کی ایک عدالت نے جانوروں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے مقدمے میں 19 سالہ افغان شہری کو 30 ماہ قید کی سزا سناتے ہوئے سزا مکمل ہونے کے بعد ملک بدر کرنے کا بھی حکم دے دیا۔
فرانسیسی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ مارسیل کے قریب واقع ایک جانوروں کی پناہ گاہ میں پیش آیا، جہاں فروری اور اپریل کے درمیان متعدد جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق شیلٹر ہوم کے عملے نے جانوروں کو زخمی حالت میں دیکھا، جبکہ بعض جانوروں کی ٹانگیں بندھی ہوئی تھیں۔ بعد ازاں ویٹرنری ماہرین کے معائنے میں جانوروں پر تشدد کی تصدیق کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔
تحقیقات کے دوران شیلٹر ہوم میں نصب نگرانی کے کیمروں کی مدد سے مشتبہ شخص کی شناخت کی گئی۔ پولیس کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے وقت بھی وہ جانوروں کی پناہ گاہ میں موجود تھا، جبکہ فرانزک شواہد اور موبائل فون کے ریکارڈ بھی اسے وقوعہ سے منسلک کرتے ہیں۔
عدالت نے مقدمے کی سماعت کے بعد ملزم کو 30 ماہ قید کی سزا سنائی اور حکم دیا کہ سزا مکمل ہونے کے بعد اسے فرانس سے بے دخل کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ ملزم کا نام جنسی اور پرتشدد جرائم کے ریکارڈ میں شامل کیا جائے۔
دورانِ سماعت ملزم نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا۔ طبی معائنے کے مطابق اسے کسی ذہنی بیماری میں مبتلا نہیں پایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ملزم 2025 میں فرانس پہنچا تھا اور سیاسی پناہ کا درخواست گزار تھا۔ اس واقعے کے بعد فرانس میں امیگریشن، عوامی تحفظ اور پناہ گزینوں سے متعلق پالیسیوں پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاملے پر زور دیا ہے کہ مجرمانہ مقدمات کو انفرادی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے اور کسی ایک شخص کے جرم کو پوری پناہ گزین برادری سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔