تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کو راولاکوٹ جانے سے روک دیا گیا
وفد قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی قیادت میں راولاکوٹ روانہ ہوا تھا
اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کو راولاکوٹ جانے سے روک دیا گیا، جس کے بعد وفد نے چکیاں کے مقام پر دھرنا دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق وفد قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی قیادت میں راولاکوٹ روانہ ہوا تھا، جہاں انہیں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی دھرنے میں شرکت اور یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔
وفد میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور تحریک کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔
اپوزیشن وفد نے کہوٹہ چکیاں چیک پوسٹ پر دھرنا دیدیا pic.twitter.com/eE5YEq9rD5
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) June 29, 2026
راستے میں کہوٹہ کے مقام پر پولیس نے وفد کو روک لیا اور آگے جانے کی اجازت نہ دی۔ پولیس کے مطابق انہیں اعلیٰ حکام کی ہدایت موصول ہوئی تھی جس پر ناکہ بندی کی گئی۔
اس موقع پر اپوزیشن رہنماؤں اور پولیس کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے۔ شاہد خاقان عباسی نے موقف اختیار کیا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے راولاکوٹ جانا چاہتے ہیں اور مرکزی قیادت کو روکنا منفی پیغام دیتا ہے۔
ہم یہاں دھرنا دینگے جب تک ہمیں کشمیر جانے نہیں دیا جاتا۔ شاہد خاقان عباسی
ہم تو اظہار یکجتی کرنے جارہے تھے لیکن پولیس نے کشمیر جانے سے روک دیا۔ محمود خان اچکزئی pic.twitter.com/MQWvjxtyFZ
— Sheraz Ahmad Sherazi (@Sherazi_Silmian) June 29, 2026
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وفد کا مقصد صرف بات چیت اور حالات کو سمجھنا تھا، جبکہ علامہ راجہ ناصر عباس نے اسے افسوسناک صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت کو راستے میں روکنا منفی تاثر پیدا کرتا ہے۔
راستہ نہ ملنے پر وفد نے موقع پر ہی چکیاں کے علاقے میں دھرنا دے دیا، جس میں مختلف اپوزیشن رہنما شریک ہیں۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی قیادت میں راولاکوٹ آزاد کشمیر جانے والے وفد کو پولیس نے پنڈی کہوٹہ میں روک لیا pic.twitter.com/YUYW54YmUS
— Usama Iqbal Khawaja (@KhUsamaIqbal) June 29, 2026