ایران کے جوہری ذخیرے۔تیل پابندیوں پر امریکی ارکانِ کانگریس کے سخت سوالات

حتمی معاہدے کا مقصد ایران کو افزودہ یورینیم رکھنے سے روکنا ہے۔روبیو ۔ وٹکوف

June 30, 2026 · بام دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے حوالے سے کانگریس کے ارکان کو بریفنگ دی، جس میں ایران کے جوہری ذخیرے، تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں اور آئندہ مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی میڈیا ادارے پولیٹیکو کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے سینیٹ کو بریفنگ دینے کے بعد ایوانِ نمائندگان کے ارکان کو بھی ٹیلی فون پر بریفنگ دی۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کے معاہدے پر کانگریس کی پہلی جامع بریفنگ تھی۔

پولیٹیکو نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ قانون سازوں نے ایران کے جوہری مواد کے ذخیرے اور اس کی تیل برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھانے کے معاملے پر تفصیلی سوالات کیے۔

روبیو اور وٹکوف نے ارکانِ کانگریس کو بتایا کہ امریکہ کا مقصد ایک ایسا حتمی معاہدہ طے کرنا ہے جس کے تحت ایران کو اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم رکھنے کی اجازت نہ ہو۔ ان کے مطابق موجودہ مفاہمتی یادداشت اسی حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہے۔

وٹکوف نے مزید بتایا کہ جوہری مذاکرات میں شامل تکنیکی ماہرین کی ٹیمیں آئندہ بات چیت کے لیے جلد قطر روانہ ہوں گی۔

امریکی حکام نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی سست رفتار بحالی پر ارکانِ کانگریس کے خدشات دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو کسی قسم کی امریکی مالی امداد یا براہِ راست رقوم فراہم نہیں کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاملے پر ایک ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس کی روبیو اور وٹکوف سے طویل بحث ہوئی، جس کے بعد امریکی حکام نے گفتگو ختم کرتے ہوئے ٹیلی فون کال بھی اختتام پذیر کر دی۔