آبنائے ہرمز پر ایران۔عمان میں مشترکہ مفاہمت۔تکنیکی مذاکرات جلد شروع ہوں گے

دونوں ممالک انتظامی امور اور بحری راستوں پر اتفاقِ رائے کے قریب

June 30, 2026 · بام دنیا

ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی امور پر ایک مشترکہ مفاہمت تک پہنچنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے اس حوالے سے تکنیکی سطح پر مذاکرات آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ ایران اور عمان کی آبنائے ہرمز مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں آبی گزرگاہ کے مستقبل کے انتظام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بعد ازاں ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غریب‌آبادی نے کہا کہ تہران اور مسقط آبنائے ہرمز کے انتظامی معاملات پر “مشترکہ مفاہمت” تک پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمان بھی ساحلی ریاست ہونے کے ناطے ان انتظامات میں شامل ہونے کا حامی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض فیس وصول کی جانی چاہیے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تکنیکی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جبکہ ماہرین آئندہ سات سے آٹھ روز میں مجوزہ متن کی تیاری اور بحری جہازوں کے راستوں سے متعلق خصوصی مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کا مستقبل ایران اور امریکا کے درمیان ایک اہم اختلافی معاملہ بنا ہوا ہے۔ ایران عمان کے اشتراک سے نئی سروس فیس نافذ کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا اس تجویز کی مخالفت کر رہا ہے۔

ادھر عمان کا مؤقف کسی حد تک محتاط رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے انتظامی اخراجات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم بعد میں عمان نے واضح کیا کہ بحری جہازوں سے گزرنے کی کوئی نئی فیس عائد کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں اپنی ساحلی حدود کے قریب ایک عارضی بحری راہداری کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

دوسری جانب ایران نے اس آبی گزرگاہ استعمال کرنے والے بعض جہازوں پر حملے کیے اور مؤقف اختیار کیا کہ صرف ایران کی ساحلی پٹی سے گزرنے والا بحری راستہ ہی مجاز اور قابل قبول ہوگا۔