عمان نے آبنائے ہرمز پر ٹال ٹیکس لینے کی مخالفت کردی۔ایرانی موقف کمزور
وزیر خارجہ نے بحری، ماحولیاتی، نیوی گیشن خدمات کے عوض رضاکارانہ فیس پر بات چیت کی حمایت کردی
عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے صرف گزرنے پر کوئی فیس نہیں ہونی چاہیے، تاہم بحری، ماحولیاتی اور جہاز رانی سے متعلق خدمات کے عوض فیس لینے پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مسقط آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی حمایت نہیں کرتا۔
ان کے مطابق بحری، ماحولیاتی اور نیوی گیشن خدمات کے عوض وصول کی جانے والی فیس سے متعلق فائدہ اٹھانے والے ممالک اور کمپنیوں کے ساتھ رضاکارانہ بنیادوں پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ان خدمات میں جہاز رانی کی حفاظت کو بہتر بنانا، سمندری پانی کو آلودگی سے محفوظ رکھنا، اور حادثات یا ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنانا شامل ہو سکتا ہے۔
بدر بن حمد البوسعیدی نے مزید کہا کہ اس ضمن میں آبنائے ملاکا اور سنگاپور آبنائے جیسے موجودہ بین الاقوامی ماڈلز سے بھی رہنمائی لی جا سکتی ہے۔