وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد ہلاکتیں 1719 تک پہنچ گئیں، ہزاروں افراد اب بھی لاپتا
قدرتی آفت کے نتیجے میں 5 ہزار 34 افراد زخمی، 15 ہزار 866 بے گھر اور 22 ہزار 619 متاثرین مختلف طبی مراکز میں زیر علاج ہیں
وینزویلا کے شمالی ساحلی علاقوں میں 24 جون کو آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد تباہی کی صورتحال بدستور سنگین ہے۔ حکام کے مطابق اب تک 1719 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 5 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہزاروں شہری بے گھر ہو چکے ہیں اور امدادی ادارے لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قدرتی آفت کے نتیجے میں 5 ہزار 34 افراد زخمی، 15 ہزار 866 بے گھر اور 22 ہزار 619 متاثرین مختلف طبی مراکز میں زیر علاج ہیں۔ اقوام متحدہ کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق لاپتا افراد کی تعداد 68 ہزار تک پہنچ سکتی ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیاں وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان ریاست لا گوائیرا میں ہوا، جہاں زلزلے کا مرکز واقع تھا۔ حکومت نے شدید تباہی کے پیش نظر متاثرہ علاقے کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے انتظامی امور فوج کے سپرد کر دیے ہیں۔
زلزلے کے کئی روز گزرنے کے باوجود ملبہ ہٹانے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ مختلف ممالک سے آنے والی ریسکیو ٹیمیں جدید مشینری کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ملبے تلے زندہ افراد کے ملنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
کاتیا لا مار کے علاقے میں بین الاقوامی امدادی ٹیموں نے ایک 21 سالہ نوجوان کو ملبے سے نکالنے کے لیے کئی گھنٹے تک کوششیں جاری رکھیں، جو زلزلے کے روز سے منہدم عمارت کے نیچے پھنسا ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق 24 جون کو چند لمحوں کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے آئے، جن کے باعث شمالی وینزویلا کے متعدد شہر شدید متاثر ہوئے۔ اس کے بعد بھی آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے، جس سے متاثرہ علاقوں میں خوف کی فضا برقرار ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری نے بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔ مختلف ممالک امدادی سامان، ریسکیو ٹیمیں اور طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ بحالی اور تعمیر نو کے لیے مالی معاونت کے اعلانات بھی سامنے آئے ہیں۔
حکام کے مطابق بجلی کی فراہمی بحال کرنے، خطرناک عمارتوں کا سروے مکمل کرنے اور بے گھر افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ متاثرہ شہریوں کو جلد از جلد بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔