سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا معاملہ ہے، عطا اللہ تارڑ

پاکستان کے لیے پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی بقا، معیشت اور غذائی تحفظ سے جڑا بنیادی مسئلہ ہے

June 30, 2026 · اہم خبریں

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزراء، ماہرین، سفارتی شخصیات، سیاسی رہنماؤں اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سیمینار میں سندھ طاس معاہدے کی اہمیت، آبی وسائل کے تحفظ، علاقائی تعاون اور مستقبل میں پانی سے متعلق چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے لیے پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی بقا، معیشت اور غذائی تحفظ سے جڑا بنیادی مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ کا نظام صدیوں سے خطے کی تہذیب اور زراعت کی بنیاد رہا ہے اور اس کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی سطح پر ایک اہم آبی معاہدہ تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ معاہدے پر عمل درآمد اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دی، تاہم ملک اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی پرعزم ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہر قانون مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کروڑوں پاکستانیوں کے پانی، زراعت اور معیشت سے براہِ راست وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں اختلافات کے حل کے لیے واضح قانونی طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت ضرورت پڑنے پر معاملات ثالثی اور عالمی ثالثی عدالت تک لے جائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ثالثی کے مختلف فیصلوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد بین الاقوامی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے طے شدہ طریقہ کار پر عمل ضروری ہے۔

سیمینار کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں پانی کے منصفانہ استعمال، بین الاقوامی معاہدوں کے احترام اور تعاون کے فروغ کے ذریعے پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔