پانی کو ہتھیار بنانا ناقابلِ قبول،مصدق ملک کا دوٹوک مؤقف

پانی کا مسئلہ صرف قدرتی وسائل کی تقسیم کا نہیں بلکہ انصاف، علاقائی استحکام اور انسانی زندگیوں سے جڑا ایک اہم معاملہ ہے۔

June 30, 2026 · قومی

 

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پانی کا مسئلہ صرف قدرتی وسائل کی تقسیم کا نہیں بلکہ انصاف، علاقائی استحکام اور انسانی زندگیوں سے جڑا ایک اہم معاملہ ہے۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش اصل چیلنج پانی کی مقدار نہیں بلکہ اس کے بہاؤ پر کنٹرول کا ہے۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر دریاؤں میں پانی کی شدید کمی جبکہ بعض اوقات اچانک زیادہ بہاؤ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جس کے اثرات زراعت اور عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پانی کی غیر یقینی دستیابی کے باعث متعدد کسان زرعی سرگرمیاں چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جبکہ اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ میں مداخلت کے باعث ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں  اور ہزاروں افراد اس کے اثرات سے متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کو دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرناک ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے اہم ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے، جو ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔ ان کے مطابق عالمی ثالثی کے مختلف فیصلوں میں بھی یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرتا رہے گا، جبکہ پانی کی منصفانہ تقسیم اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد خطے میں امن کے لیے ناگزیر ہے۔