14 حوالاتی کیسے فرار ہوئے؟ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع
زیرِ حراست اہلکاروں کے موبائل فونز کا ڈیٹا اور کال ریکارڈ بھی تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے عدالت میں پیشی کے بعد 14 حوالاتیوں کے فرار کے معاملے کی تحقیقات مزید تیز کر دی گئی ہیں، جبکہ واقعے سے متعلق مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق زیرِ حراست اہلکاروں کے موبائل فونز کا ڈیٹا اور کال ریکارڈ بھی تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے تاکہ واقعے سے قبل اور بعد میں ہونے والے رابطوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
تحقیقاتی ٹیم اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ کہوٹہ کچہری میں پیشی کے دوران قیدیوں سے ملاقات کے بعد انہیں مقررہ ضابطوں کے مطابق دوبارہ ہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ قیدی وین پر تعینات اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے اور عدالت میں خطرناک ملزمان کی پیشی سے متعلق حفاظتی ایس او پیز پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد انسپکٹر جنرل پنجاب نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ اقدامات کیے۔ ایس پی ہیڈکوارٹرز کو عہدے سے ہٹا کر رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی، جبکہ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز کو معطل کر دیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار افراد کے تعین کے بعد قانون اور ضابطوں کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں راولپنڈی ریجن سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔