اسلام آبائی کورٹ کا ازدواجی اثاثوں سے متعلق فیصلہ اسلامی احکامات سےمتصادم قرار
انبیائے کرام اور مقدس شخصیات کی بصری تمثیل شرعاً ناجائز ہے، میڈیا ہاؤسز میں پیشی جانچ پڑتال اور مؤثر ایڈیٹوریل نگرانی کا نظام بنایا جائے، اسلامی نظریاتی کونسل
فائل فوٹو
اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ازدواجی اثاثوں سے متعلق فیصلے کو اسلامی احکامات سے متصادم قرار دے دیا جبکہ اقدام خودکشی کی سزا کی بحالی پر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی تائید کردی۔
نجی ٹی وی کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے 246ویں اجلاس میں اہم قومی و شرعی امور پر فیصلے کیے گئے، امریکا-ایران جنگ بندی کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ کونسل نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی کاوشوں کو بھرپور طریقے سے سراہا اور عالمی معیشت اور تجارتی روانی کے لیےآبنائے ہرمز کی بندش کے فوری خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا۔
اجلاس میں اقدام خودکشی کی سزا کی بحالی سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی تائید کی گئی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ازدواجی اثاثوں سے متعلق فیصلہ اسلامی احکامات سے متصادم قرار دیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے بتایا گیا کہ عائلی عدالتیں ترمیمی بل 2026 کا جائزہ، بچوں کے نفقہ سے متعلق اسلامی احکام واضح ہیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے رواں برس مارچ میں فیصلے میں خواتین کے آئینی اور قانونی تحفظات کو مناسب قانون سازی اور پالیسی اقدامات کے ذریعے آگے بڑھانے، حکومت کو خواتین کے ملکیتی حقوق کا واضح اعلان اور تحفظ کرنے، گھریلو خواتین کو شادی کے دوران حاصل اثاثوں میں مناسب حصہ دینے سے متعلق قانون سازی کرنے اور قانون سازی میں خواتین کے مفادات کو مدنظر رکھنے کی ہدایت دی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خواتین آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، خواتین کے حقوق کا تحفظ منصفانہ اور ترقی پسند معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
عدالت نے نکاح نامہ میں ترمیم کی ہدایت دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ شادی کے بعد شوہر کی ملکیت میں جائیداد شادی کے دوران، طلاق یا موت کی صورت میں بیوی کے ساتھ مساوی طور پر تقسیم ہونے کی شرط شامل ہو۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے مخصوص شرائط کے ساتھ آنکھ کا قرنیہ عطیہ اور پیوند کاری شرعاً جائز قرار دے دیا اور پلاسٹک کور پر پابندی کے لیے قانون سازی کی حمایت اور صوبوں کو بھی قانون سازی کی سفارش کی۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے واضح کیا کہ انبیائے کرام اور مقدس شخصیات کی بصری تمثیل شرعاً ناجائز ہے، میڈیا ہاؤسز میں پیشی جانچ پڑتال اور مؤثر ایڈیٹوریل نگرانی کا نظام بنایا جائے، آزادی اظہار اور مذہبی حساسیت کے درمیان ذمہ دارانہ توازن ضروری ہے۔