شیخوپورہ میں 125 برس پرانا گوردوارہ مسمار کرنے پر مقامی تاجر گرفتار
وزیراعلیٰ پنجاب نے سرکاری خرچ پر بحالی کی منظوری دے دی، بھارت کی جانب سے معاملہ اچھالنے کی کوشش
صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں واقع 125 سال پرانے تاریخی گوردوارہ سری گرو سنگھ سبھا صاحب کے ایک حصے کو غیر قانونی طور پر مسمار کیے جانے کے واقعے پر پاکستانی حکام نے سخت ایکشن لیا ہے۔
حکومتِ پنجاب نے واقعے کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔حکومتی ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایک مقامی تاجر نے محکمہ اوقاف یا ضلعی انتظامیہ سے کسی بھی قسم کا این او سی (No Objection Certificate) لیے بغیر عمارت میں توڑ پھوڑ کی
۔ واقعے کے بعد مقامی سکھ برادری نے شدید احتجاج کیا، جس پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فوری نوٹس لیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی کا حکم دیا۔صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور واضح کیا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ (ETPB) نے اس پراپرٹی کی لیز فوری منسوخ کر دی ہے۔
A country that is unsuccessfullly in pursuit of portraying itself as the absolute custodian of Indus Valley civilization has demolished 125-year old Gurudwara in Farukhabad. No doubt, the country continues to be a massive threat for the minorities and their beliefs. pic.twitter.com/avwahIHQdi
— Ankit Sharma (@vaibhavank) July 2, 2026
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت گوردوارے کے متاثرہ حصے کی اپنے خرچ پر فوری تعمیرِ نو اور بحالی کا کام شروع کر رہی ہے اور ملکیت کے حوالے سے جامع انکوائری جاری ہے۔
دوسری جانب، گوردوارے کے آس پاس آباد تاجروں اور رہائشیوں نے اپیل کی ہے کہ طویل عرصے سے قائم دکانوں اور مکانات کی منتقلی کی صورت میں انہیں متبادل روزگار فراہم کیا جائے۔ دوسری جانب بھارت نے 24 جون کو پیش آنے والے اس معاملے کو یکم جولائی سے اچھالنے کی کوشش کی اور اس واقعے پر انتہائی پریشان کن قرار دیا۔