صرف واٹس ایپ گروپ کا ممبریاایڈمن ہوناجرم نہیں،لاہور ہائی کورٹ
13صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری۔آئندہ کے لیے عدالتی نظیر قرار
لاہورہائی کورٹ نے واٹس ایپ گروپس کا ممبر یا ایڈمن ہونے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت عالیہ نے واٹس ایپ گروپس سے متعلق ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی واٹس ایپ گروپ کا رُکن یا ایڈمن ہونا بذاتِ خود جرم یا فوجداری ذمہ داری نہیں بنتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ غیر قانونی یا توہین آمیز مواد اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرنے والا شخص خود اپنے عمل کا ذمہ دار ہوگا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایف آئی اے سائبر کرائم کیس میں ملزم سید عبدالمنان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف کسی واٹس ایپ گروپ میں موجودگی یا خاموش رہنا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ صرف گروپ ایڈمن ہونے کی بنیاد پر بھی کسی شخص پر فوجداری ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جدید ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ میں جرم کے تعین کیلئے ہر فرد کے انفرادی کردار کا جائزہ لینا ضروری ہے اور محض گروپ کی رکنیت کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ واٹس ایپ پر غیر قانونی یا توہین آمیز مواد اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی ہوگی۔ فیصلے میں ایف آئی اے کی ٹیکنیکل اینالیسز رپورٹ کو بادی النظر میں قابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے ملزم سید عبدالمنان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کر دی گئی۔
عدالت نے اس مقدمے کا ٹرائل جلد مکمل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی اس فیصلے کو آئندہ کے لیے ایک عدالتی نظیر بھی قرار دیا گیا۔